کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - اس وضاحت کا ذکر کہ نبی کریم ﷺ کے فرمان «فقيل هديت الفطرة» سے مراد یہ ہے کہ جبریل علیہ السلام نے آپ ﷺ سے یہ کہا تھا۔
حدیث نمبر: 52
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيرَةَ ، يَقُولُ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِقَدْحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ وَلَبَنٍ ، فَنَظَرَ إِلَيْهُمَا ، ثُمَّ أَخَذَ اللَّبَنَ ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ : هُدِيتَ الْفطْرَةِ ، وَلَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی، اس رات آپ کی خدمت میں شراب اور دودھ کے دو پیالے پیش کئے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی طرف دیکھا، پھر آپ نے دودھ لے لیا، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے آپ سے کہا: آپ کی فطرت کی طرف رہنمائی کی گئی ہے، اگر آپ شراب لے لیتے، تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔