کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس جگہ کا ذکر جہاں نبی کریم ﷺ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی قبر میں نماز پڑھتے دیکھا۔
حدیث نمبر: 50
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ ، وَشَيْبَانُ ، قَالا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَرَرْتُ بِمُوسَى لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الأَحْمَرِ " قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا قَادِرٌ عَلَى مَا يَشَاءُ ، رُبَّمَا يَعِدُ الشَّيْءَ لِوَقْتٍ مَعْلُومٍ ، ثُمَّ يَقْضِي كَوْنَ بَعْضِ ذَلِكَ الشَّيْءِ قَبْلُ مَجِيءِ ذَلِكَ الْوَقْتِ ، كَوَعْدِهِ إِحْيَاءَ الْمَوْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجَعْلِهِ مَحْدُودًا ، ثُمَّ قَضَى كَوْنَ مِثْلِهِ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ ، مِثْلَ مَنْ ذَكَرَهُ الِلَّهِ وَجَعَلَهُ الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا فِي كِتَابِهِ ، حَيْثُ يَقُولُ : أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّى يُحْيِي هَذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالَ بَلْ لَبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ سورة البقرة آية 259 إِلَى آخِرِ الآيَةِ ، وَكَإِحْيَاءِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا لِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ بَعْضَ الأَمْوَاتِ ، فَلَمَّا صَحَّ وجودُ كَوْنِ هَذِهِ الْحَالَةِ فِي الْبَشَرِ ، أَرَادَهُ الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا قَبْلُ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، لَمْ يُنْكَرْ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا أَحْيَا مُوسَى فِي قَبْرِهِ حَتَّى مَرَّ عَلَيْهِ الْمُصْطَفَى صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ ، وَذَاكَ أَنَّ قَبْرَ مُوسَى بِمُدَّيْنِ بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَبَيْنَ بَيْتِ الْمَقَدْسِ ، فَرَآهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو فِي قَبْرِهِ إِذِ الصَّلاةُ دُعَاءٌ ، فَلَمَّا دَخَلَ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ الْمَقَدْسِ وَأُسْرِيَ بِهِ ، أُسْرِيَ بِمُوسَى حَتَّى رَآهُ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ ، وَجَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ مِنَ الْكَلامِ مَا تَقَدْمَ ذِكْرُنَا لَهُ ، وَكَذَلِكَ رُؤْيَتُهُ سَائِرَ الأَنْبِيَاءِ الَّذِينَ فِي خَبَرِ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، فَأَمَّا قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرِ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ : " بَيْنَمَا أَنَا فِي الْحَطِيمِ إِذْ أَتَانِي آتٍ ، فَشَقَّ مَا بَيْنَ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ " ، فَكَانَ ذَلِكَ لَهُ فَضِيلَةٌ فُضِّلَ بِهَا عَلَى غَيْرِهِ ، وَأَنَّهُ مِنْ مُعْجِزَاتِ النُّبُوَّةِ ، إِذِ الْبَشَرُ شُقَّ عَنْ مَوْضِعِ الْقَلْبِ مِنْهُمْ ، ثُمَّ اسْتُخْرِجَ قُلُوبُهُمْ مَاتَوا ، وَقَوْلُهُ : " ثُمَّ حُشِيَ " يُرِيدُ : أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا حَشَا قَلْبَهُ الْيَقِينَ وَالْمَعْرِفَةَ ، الَّذِي كَانَ اسْتِقْرَارُهُ فِي طَسْتِ الذَّهَبِ ، فَنُقِلَ إِلَى قَلْبِهِ ، ثُمَّ أُتِيَ بِدَابَّةٍ يُقَالُ لَهَا : الْبُرَاقُ ، فَحُمِلَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَطِيمِ أَوِ الْحِجْرِ ، وَهُمَا جَمِيعًا فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، فَانْطَلَقَ بِهِ جِبْرِيلُ حَتَّى أَتَى بِهِ عَلَى قَبْرِ مُوسَى عَلَى حَسَبِ مَا وَصَفْنَاهُ ، ثُمَّ دَخَلَ مَسْجِدَ بَيْتِ الْمَقَدْسِ ، فَخَرَقَ جِبْرِيلُ الصَّخْرَةَ بِإِصْبَعِهِ ، وَشَدَّ بِهَا الْبُرَاقَ ، ثُمَّ صَعِدَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ ، ذِكْرُ شَدِّ الْبُرَاقِ بِالصَّخْرَةِ فِي خَبَرِ بُرَيْدَةَ ، وَرُؤْيَتِهِ مُوسَى صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ لَيْسَا جَمِيعًا فِي خَبَرِ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، فَلَمَّا صَعِدَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، اسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، قِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ ، قِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قِيلَ : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ يُرِيدُ بِهِ : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ لِيُسْرَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ ، لا أَنَّهُمْ لَمْ يَعْلَمُوا بِرِسَالَتِهِ إِلَى ذَلِكَ الْوَقْتِ ، لأَنَّ الإِسْرَاءَ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْوَحْيِ بِسَبْعِ سِنِينَ ، فَلَمَّا فُتِحَ لَهُ فَرَأَى آدَمَ عَلَى حَسَبِ مَا وَصَفْنَا قَبْلُ ، وَكَذَلِكَ رُؤْيَتُهُ فِي السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا ، وَعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ، وَفِي السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ يُوسُفَ بْنَ يَعْقُوبَ ، وَفِي السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ إِدْرِيسَ ، ثُمَّ فِي السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ هَارُونَ ، ثُمَّ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ مُوسَى ، ثُمَّ فِي السَّمَاءِ السَّابِعَةِ إِبْرَاهِيَمَ ، إِذْ جَائِزٌ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا أَحْيَاهُمْ لأَنْ يَرَاهُمُ الْمُصْطَفَى صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ ، فَيَكُونُ ذَلِكَ آيَةً مُعْجِزَةً يُسْتَدَلُّ بِهَا عَلَى نُبُوَّتِهِ عَلَى حَسَبِ مَا أَصَّلْنَا قَبْلُ ، ثُمَّ رُفِعَ لَهُ سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى ، فَرَآهَا عَلَى الْحَالَةِ الَّتِي وَصَفَ ، ثُمَّ فُرِضَ عَلَيْهِ خَمْسُونَ صَلاةً ، وَهَذَا أَمْرُ ابْتِلاءٍ أَرَادَ الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا ابْتِلاءَ صَفِيِّهِ مُحَمَّدٍ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ فَرَضَ عَلَيْهِ خَمْسِينَ صَلاةً ، إِذْ كَانَ فِي عِلْمِ اللَّهِ السَّابِقِ أَنَّهُ لا يَفْرِضُ عَلَى أُمَّتِهِ إِلا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فَقَطْ ، فَأَمَرَهُ بِخَمْسِينَ صَلاةً أَمْرَ ابْتِلاءٍ ، وَهَذَا كَمَا نَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا قَدْ يَأْمُرُ بِالأَمْرِ يُرِيدُ أَنْ يَأْتِيَ الْمَأْمُورُ بِهِ إِلَى أَمْرِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُرِيدَ وُجُودَ كَوْنِهِ ، كَمَا أَمَرَ الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا خَلِيلَهُ إِبْرَاهِيَمَ بِذَبْحِ ابْنِهِ ، أَمَرَهُ بِهَذَا الأَمْرِ أَرَادَ بِهِ الانْتِهَاءَ إِلَى أَمْرِهِ دُونَ وُجُودِ كَوْنِهِ ، فَلَمَّا أَسْلَمَا ، وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ ، فَدَاهُ بِالذِّبْحِ الْعَظِيمِ ، إِذْ لَوْ أَرَادَ الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا كَوْنَ مَا أَمَرَ ، لَوَجَدَ ابْنَهُ مَذْبُوحًا ، فَكَذَلِكَ فَرَضَ الصَّلاةَ خَمْسِينَ أَرَادَ بِهِ الانْتِهَاءَ إِلَى أَمْرِهِ دُونَ وُجُودِ كَوْنِهِ ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى مُوسَى ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ أُمِرَ بِخَمْسِينَ صَلاةً كُلَّ يَوْمٍ ، أَلْهُمُ الِلَّهِ مُوسَى أَنْ يَسْأَلَ مُحَمَّدًا صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِمَا وَسَلَّمَ بِسُؤَالِ رَبِّهِ التَّخْفِيفَ لأُمَّتِهِ ، فَجَعَلَ جَلَّ وَعَلا قَوْلَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ لَهُ سَبَبًا لِبَيَانِ الْوُجُودِ لِصِحَّةِ مَا قُلْنَا : إِنَّ الْفَرْضَ مِنَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ أَرَادَ إِتْيَانَهُ خَمْسًا لا خَمْسِينَ ، فَرَجَعَ إِلَى اللَّهِ جَلَّ وَعَلا فَسَأَلَهُ ، فَوَضَعَ عَنْهُ عَشْرًا ، وَهَذَا أَيْضًا أَمْرُ ابْتِلاءٍ أُرِيدَ بِهِ الانْتِهَاءُ إِلَيْهِ دُونَ وُجُودِ كَوْنِهِ ، ثُمَّ جَعَلَ سُؤَالَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ إِيَّاهُ سَبَبًا لِنَفَاذِ قَضَاءِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا فِي سَابِقِ عِلْمِهِ ، أَنَّ الصَّلاةَ تُفْرَضَ عَلَى هَذِهِ الأُمَّةِ خَمْسًا لا خَمْسِينَ ، حَتَّى رَجَعَ فِي التَّخْفِيفِ إِلَى خَمْسِ صَلَوَاتٍ ، ثُمَّ أَلْهُمُ الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا صَفِيَّهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ حَتَّى قَالَ لِمُوسَى : " قَدْ سَأَلْتُ رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ ، لَكِنِّي أَرْضَى وَأُسَلِّمُ " ، فَلَمَّا جَاوَزَ نَادَاهُ مُنَادٍ : أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي ، أَرَادَ بِهِ الْخَمْسَ صَلَوَاتٍ ، وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِي ، يُرِيدُ : عَنْ عِبَادِي مِنْ أَمْرِ الابْتِلاءِ الَّذِي أَمَرْتُهُمْ بِهِ مِنْ خَمْسِينَ صَلاةٍ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا ، وَجُمْلَةُ هَذِهِ الأَشْيَاءِ فِي الإِسْرَاءِ رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِسْمِهِ عِيَانًا دُونَ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ رُؤْيَا أَوْ تَصْوِيرًا صُوِّرَ لَهُ ، إِذْ لَوْ كَانَ لَيْلَةَ الإِسْرَاءِ وَمَا رَأَى فِيهَا نَوْمًا دُونَ الْيَقَظَةِ ، لاسْتَحَالَ ذَلِكَ ، لأَنَّ الْبَشَرَ قَدْ يَرَوْنَ فِي الْمَنَامِ السَّمَاوَاتِ وَالْمَلائِكَةَ وَالأَنْبِيَاءَ وَالْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَمَا أَشْبَهَ هَذِهِ الأَشْيَاءَ ، فَلَوْ كَانَ رُؤْيَةُ الْمُصْطَفَى صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا وَصَفَفِي لَيْلَةِ الإِسْرَاءِ فِي النَّوْمِ دُونَ الْيَقَظَةِ ، لَكَانَتْ هَذِهِ حَالَةٌ يَسْتَوِي فِيهَا مَعَهُ الْبَشَرُ ، إِذْ هُمْ يَرَوْنَ فِي مَنَامَاتَهُمْ مِثْلَهَا ، وَاسْتَحَالَ فَضْلُهُ ، وَلَمْ تَكُنْ تِلْكَ حَالَةً مُعْجِزَةً يُفَضَّلُ بِهَا عَلَى غَيْرِهِ ، ضِدَّ قَوْلِ مَنْ أَبْطَلَ هَذِهِ الأَخْبَارَ ، وَأَنْكَرَ قَدْرَةَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا وَإِمْضَاءَ حُكْمِهِ لِمَا يُحِبُّ كَمَا يُحِبُّ ، جَلَّ رَبُّنَا وَتَعَالَى عَنْ مِثْلِ هَذَا وَأَشْبَاهِهِ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
” معراج کی رات میرا گزر سیدنا موسیٰ علیہ السلام (کی قبر) کے پاس سے ہوا، تو وہ سرخ ٹیلے کے پاس اپنی قبر میں کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے تھے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:)اللہ تعالیٰ جو چاہے اس پر قدرت رکھتا ہے۔ بعض اوقات وہ کسی چیز کے بارے میں کسی متعین وقت کا وعدہ کر لیتا ہے پھر وہ یہ فیصلہ دیتا ہے کہ اس چیز کا کچھ حصہ اس مخصوص وقت کے آنے سے پہلے رونما ہو جائے۔
جس طرح اس نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرے گا، اور اس نے اس کے لئے ایک حد مقرر کی ہے۔ پھر اس نے یہ فیصلہ دیا کہ بعض حالتوں میں اس کی مانند صورتحال ہو سکتی ہے۔ اس طرحاللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا ہے،
اور اپنی کتاب میں یہ بات بیان کی ہے، وہ فرماتا ہے:
” یا پھر اس شخص کی مانند جو اس بستی کے پاس سے گزرا، جو ویران ہو چکی تھی، تو اس نے کہا:اللہ تعالیٰ اس کے مر جانے کے بعد اسے کیسے زندہ کرے گا، تواللہ تعالیٰ نے اسے ایک سو سال کے لئے موت دے دی پھر اس نے اسے زندہ کیا اور دریافت کیا تم کتنے عرصے تک (سوئے رہے) اس نے جواب دیا: میں نے ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ گزارا ہے، تو فرمایا: نہیں بلکہ تم نے ایک سو سال گزار دیے ہیں ۔“
یہ آیت کے آخر تک ہے
یا جس طرحاللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسی بن مریم علیہ السلام کے لئے بعض مردوں کو زندہ کر دیا تھا۔ تو جب بشر میں اس طرح کی حالت کا موجود ہونا صیح ہو، جباللہ تعالیٰ قیامت سے پہلے اس چیز کا ارادہ کرے، تو اب اس بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہاللہ تعالیٰ نے سیدنا موسی علیہ السلام کو ان کی قبر میں زندہ کیا یہاں تک کہ معراج کی رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے۔
اس کی وجہ یہ ہے، سیدنا موسی علیہ السلام کی قبر مدینہ منورہ اور بیت المقدس کے درمیان ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی قبر میں دعا مانگتے ہوئے دیکھا، کیونکہ ” الصلوۃ “ سے مراد دعا مانگنا ہے تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بيت المقدس میں معراج کی رات داخل ہوئے، تو اسی رات سیدنا موسی علیہ السلام کو بھی سفر کروایا گیا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا موسی علیہ السلام کو چھٹے آسمان پر دیکھا ان کے اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے درمیان بات چیت بھی ہوئی جسے ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ اسی طرح سیدنا مالک بن صعصہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں بھی جن تمام انبیاء کو دیکھنے کا تذکرہ ہے (اس سے بھی یہی مراد ہو گا)۔
جہاں تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا تعلق ہے جو سیدنا مالک بن صعصہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں ہے۔ ” ایک مرتبہ میں حطیم میں موجود تھا اس دوران ایک شخص میرے پاس آیا اس نے یہاں سے لے کر یہاں تک چیر دیا ۔“ تو یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایسی فضیلت ہے، جس کے حوالے سے آپ کو تمام دیگر لوگوں پر فضیلت دی گئی ہے، اور یہ نبوت کے معجزات میں سے ہے۔ کیونکہ جب کسی انسان کے دل کی جگہ کو چیر دیا جائے، اور اگر لوگوں کے دل کو نکال دیا جائے، تو وہ مر جاتے ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان:
” پھر اسے سی دیا گیا “
اس سے مراد یہ ہے:اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل کو یقین اور معرفت کے ساتھ سی دیا۔، جو سونے کے طشت میں موجود تھے اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک کی طرف منتقل کیا گیا۔
پھر ایک جانور لایا گیا جس کا نام براق تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ” حطیم “ یا ” حجر “ سے اس پر سوار کیا گیا یہ دونوں جگہیں مسجد حرام میں موجود نہیں۔
تو جبرائیل علیہ السلام آپ کو ساتھ لے کر آئے یہاں تک کہ وہ سیدنا موسی علیہ السلام کی قبر کے پاس سے گزرے جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر
چکے ہیں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بیت المقدس میں داخل ہوئے، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اپنی انگلی کے ذریعے اس پتھر کے (سوراخ کو کھول دیا)
اور براق کو اس کے ساتھ باندھ دیا پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر آسمان کی طرف بلند ہو گئے۔ بریدہ کے حوالے سے منقول روایت میں پتھر کے ساتھ براق کو باندھنے کا تذکرہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا موسی علیہ السلام کو اپنی قبر میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھنے کا تذکرہ، یہ دونوں چیزیں سیدنا مالک بن صعصہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں نہیں ہیں۔
پھر جب سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر آسمان دنیا کی طرف بلند ہوئے، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا: تو دریافت کیا گیا: کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل۔
دریافت کیا گیا آپ کے ساتھ کون ہے۔ انہوں نے جواب دیا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم دریافت کیا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے اس سے مراد یہ ہے: کیا انہیں یہ پیغام بھجوایا گیا ہے؟ تاکہ انہیں آسمان کی سیر کروائی جائے۔
اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ لوگ اس وقت تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے واقف نہیں تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے: واقعہ معراج، وحی کے نزول کے سات سال بعد پیش آیا تھا۔
جب دروازہ کھول دیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا آدم علیہ السلام کو دیکھا جس کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں۔
اسی طرح آپ کا دوسرے آسمان میں سیدنا یحیی بن زکریا علیہ السلام یا اور سیدنا عیسی بن مریم علیہ السلام کو دیکھنا۔
تیسرے آسمان میں سیدنا یوسف بن یعقوب علیہ السلام کو دیکھنا۔
چوتھے آسمان میں سیدنا ادریس علیہ السلام کو، پانچویں آسمان میں سیدنا ہارون علیہ السلام کو، چھٹے آسمان میں سیدنا موسی علیہ السلام کو،
ساتویں آسمان میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا یہ سب روایات میں مذکور ہے۔
ممکن ہے کہاللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو زندہ کیا ہو، تاکہ مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس رات میں ان لوگوں کو دیکھ لیں اور یہ چیز ایک معجزے والی نشانی بن جائے جس کے ذریعے آپ کی نبوت پر استدلال کیا جائے جس کا اصول ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سدرۃ المنتہی تک بلند کیا گیا، تو آپ نے اس کو اس حالت میں دیکھا جس کا ذکر آپ نے کیا ہے۔
پھر آپ پر پچاس نمازیں فرض ہوئیں۔ یہ ایک حکم تھا، جو آزمائش میں مبتلا کرنے کے حوالے سے ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک آزمائش میں مبتلا کیا کہ آپ پر پچاس نمازیں فرض کی گئیں، کیونکہاللہ تعالیٰ کے علم سابق میں یہ بات موجود تھی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر صرف پانچ نمازیں فرض کرے گا، لیکن اس نے آپ کو آزمائش کے حکم کے طور پر پچاس نمازوں کا حکم دیا۔ بالکل اسی طرح جس طرح ہم یہ کہتے ہیں:اللہ تعالیٰ ایک حکم دیتا ہے اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ اس مامور بہ کام کو بجا لایا جائے۔
اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ موجود بھی ہو گا، جس طرحاللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا، تو انہیں اس بات کا حکم دیا گیا تھا۔
اس سے مراد اس کی انتہا تھی کہ اس کے حکم کی پیروی کی جائے اس سے یہ مراد نہیں تھا کہ حقیقی طور پر بھی ایسا ہی ہو جائے گا۔ تو جب ان دونوں نے اس حکم کو قبول کیا اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام نے اپنی پیشانی رکھ دی، تواللہ تعالیٰ نے اس کے فدیے کے طور پر ایک عظیم ذبیحہ دے دیا۔
کیونکہ اگراللہ تعالیٰ اس چیز کے ہونے کا ارادہ کرے جس کا اس نے حکم دیا ہے، تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو ذبح شدہ پاتے۔
اسی طرح پچاس نمازیں فرض کرنے کا حکم ہے کہ اس کے ذریعے حکم کی طرف رجوع کرنا مراد ہے اس کا موجود ہونا مراد نہیں ہے۔
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا موسی علیہ السلام کے پاس واپس تشریف لائے اور انہیں اس بارے میں بتایا کہ آپ پر روزانہ پچاس نمازیں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، تواللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہ الہام کیا کہ وہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کریں کہ وہ اپنے پروردگار سے اپنی امت کے لیے تخفیف کی درخواست کریں، تواللہ تعالیٰ نے سیدنا موسی علیہ السلام کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی گئی بات کو اس چیز کا سبب قرار دیا۔
تو اس سے ہماری کہی ہوئی یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہاللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کرنے کا ارادہ کیا تھا۔
پچاس نمازیں فرض کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا۔ پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپساللہ تعالیٰ کے پاس گئے اوراللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کی، تواللہ تعالیٰ نے دس نمازیں معاف کر دیں، تو یہ حکم بھی آزمائش کا حکم تھا، جس کے ذریعے مراد یہ تھی کہاللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف رجوع کیا جائے، اس سے یہ مراد نہیں تھی کہ یہ عملی طور پر موجود بھی ہو گا۔
پھر سیدنا موسی علیہ السلام کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنا اس بات کا سبب بنا کہاللہ تعالیٰ کے فیصلے کو نافذ کیا جائے وہ فیصلہ جو اس کے علم میں پہلے سے تھا کہ نمازیں اس امت پر پانچ فرض ہوں گی۔ پچاس نمازیں فرض نہیں ہوں گی، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ نمازوں کی تخفیف کا حکم لے کر واپس تشریف لائے۔
تواللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں یہ بات ڈال دی۔ یہاں تک کہ انہوں نے سیدنا موسی علیہ السلام سے کہا: میں نے اپنے پروردگار سے اتنی مرتبہ سوال کیا ہے: اب مجھے حیا آتی ہے۔ اب میں راضی ہوں اور اب میں تسلیم کرتا ہوں جب آپ آگے بڑھ گئے، تو ایک منادی نے یہ اعلان کیا۔ میں نے اپنے فریضے کو جاری کر دیا ہے، اس سے مراد پانچ نمازیں تھیں۔ اور میں نے اپنے بندوں پر تخفیف کر دی ہے اس سے مراد یہ ہے: میں نے اپنے بندوں سے آزمائش کے حکم کے حوالے سے تخفیف کر دی ہے، جو میں نے انہیں یہ حکم دیا تھا کہ ان پر پچاس نمازیں فرض ہوں گی، جس کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں، تو یہ تمام صورتیں معراج کی رات پیش آئیں، جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جسم کے ساتھ دیکھا۔ یہ کوئی خواب یا تصویر نہیں تھی، جو آپ کے سامنے پیش کی گئی ہو۔ کیونکہ اگر معراج کی رات اور اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ دیکھا یہ نیند کی حالت میں ہوتا، بیداری کی حالت میں نہ ہوتا، تو یہ بات ناممکن ہے، (کہ اسے معجزہ قرار دیا جائے) کیونکہ لوگ خواب میں آسمان، فرشتے، انبیاء، جنت، جہنم اور ان جیسی چیزوں کو دیکھ لیتے ہیں۔
تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر یہ سب چیزیں خواب میں دیکھی ہوتیں بیداری کے عالم میں نہ دیکھی ہوتیں، تو اس حالت کے حوالے سے دوسرے لوگ بھی آپ کے ساتھ برابر کی حیثیت رکھتے۔ اور وہ بھی اس طرح کی چیزیں اپنے خواب میں دیکھ سکتے ہیں، تو اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا اظہار ممکن نہیں ہوتا۔ اور یہ حالت معجزہ شمار نہ ہوتی جس کے حوالے سے آپ کو دوسرے لوگوں پر فضیلت دی گئی ہے یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے، جس نے ان روایات کو غلط قرار دیا ہے اس نےاللہ تعالیٰ کی قدرت کا انکار کیا ہے، اوراللہ تعالیٰ کے اپنے فیصلے کو نافذ کرنے کا انکار کیا ہے کہ وہ جس طرح چاہے، جو چاہے کر سکتا ہے۔ ہمارا پروردگار اس جیسی اور اس کے ساتھ مشابہت رکھنے والی چیزوں سے بلند و بالا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإسراء / حدیث: 50
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم