کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس واقعہ کا ذکر کہ نبی کریم ﷺ نے براق پر سوار ہو کر مکہ سے بیت المقدس کا سفر ایک رات کے کچھ حصے میں طے فرمایا۔
حدیث نمبر: 45
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ حُذَيْفَةَ ، فَقَالَ : مَنْ أَنْتَ يَا أَصْلَعُ ؟ قُلْتُ : أَنَا زِرُّ بْنُ حُبَيْشٍ ، حَدِّثْنِي بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ الْمَقَدْسِ حِينَ أُسْرِيَ بِهِ ، قَالَ : مَنْ أَخْبَرَكَ بِهِ يَا أَصْلَعُ ؟ قُلْتُ : الْقُرْآنُ ، قَالَ : الْقُرْآنُ ؟ فَقَرَأْتُ : سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلا سورة الإسراء آية 1 ، وَهَكَذَا هِيَ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ : إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ سورة الإسراء آية 1 ، فَقَالَ : هَلْ تَرَاهُ صَلَّى فِيهِ ؟ قُلْتُ : لا ، قَالَ : إِنَّهُ أُتِيَ بِدَابَّةٍ ، قَالَ حَمَّادٌ : وَصَفَهَا عَاصِمٌ لا أَحْفَظُ صِفَتَهَا ، قَالَ : فَحَمَلَهُ عَلَيْهَا جِبْرِيلُ ، أَحَدُهُمَا رَدِيفُ صَاحِبِهِ ، فَانْطَلَقَ مَعَهُ مِنْ لَيْلَتِهِ حَتَّى أَتَى بَيْتَ الْمَقَدْسِ ، فَأُرِيَ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ ، ثُمَّ رَجَعَا عَوْدَهُمَا عَلَى بَدْئِهِمَا ، فَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ ، وَلَوْ صَلَّى لَكَانَتْ سُنَّةً .
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے دریافت کیا: اے آگے سے گنجے! تم کون ہو؟ میں نے جواب دیا: میں زر بن حبیش ہوں۔ آپ مجھے بیت المقدس میں معراج کی رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتائیے، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے آگے سے گنجے! تمہیں اس بارے میں کس نے بتایا ہے؟ میں نے جواب دیا: قرآن نے۔ انہوں نے جواب دیا: کیا قرآن نے؟ تو میں نے یہ آیت پڑھ دی:
” پاک ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کو رات کے ایک حصے میں ۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت اسی طرح ہے یہ آیت یہاں تک ہے:
” بے شک وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ “
انہوں نے دریافت کیا: کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز ادا کی تھی؟ میں نے جواب دیا: جی نہیں۔ انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک جانور لایا گیا۔ یہاں حماد نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، عاصم نامی راوی نے اس کا حلیہ بھی بیان کیا تھا، لیکن مجھے اس کا حلیہ یاد نہیں رہا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر سوار کروایا ان دونوں میں سے ایک صاحب دوسرے کے پیچھے بیٹھ گئے۔
تو وہ جانور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر اسی رات روانہ ہوا، یہاں تک کہ وہ بیت المقدس آ گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمانوں اور زمین میں موجود چیزیں دکھائی گئیں، پھر یہ دونوں صاحبان واپس آ گئے، یہ جس طرح گئے تھے اسی طرح واپس آ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز ادا نہیں کی۔ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (وہاں) نماز ادا کر لیتے، تو یہ بات سنت ہوتی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإسراء / حدیث: 45
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «الصحيحة» (874)، لكن قوله: «فلم يصلّ ... » منكر، لمخالفتِه الثابت عنه صلّى الله عليه وسلّم أنه صلى - ليلتئذ - إماماً، والصلاة في الأقصى سنةٌ، يشرع شدُّ الرَّحلِ إليه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن من أجل عاصم، فإن حديثه لا يرتقي إلى الصحة.