کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کی سنت کے آگے سرِ تسلیم خم نہ کرے یا اس پر الٹی قیاس آرائیاں کرے، اس کا ایمان معتبر نہیں۔
حدیث نمبر: 24
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ ، فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ : سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرَّ ، فَأَبَى عَلَيْهِ الزُّبَيْرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْقِ يَا زُبَيْرُ ، ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ " ، فَغَضِبَ الأَنْصَارِيُّ ، وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ ؟ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْقِ يَا زُبَيْرُ ، ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ " ، قَالَ الزُّبَيْرُ : فَوَاللَّهِ لأَحْسَبُ هَذِهِ الآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ : فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ سورة النساء آية 65 .
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حرہ سے آنے والی پانی کی نالی کے بارے میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جھگڑا ہوا گیا جس کے ذریعے کھجوروں کے باغوں کو سیراب کیا جاتا تھا۔
اس انصاری نے کہا: آپ پانی کو چھوڑ دیجئے تاکہ وہ گزر جائے، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اس کی یہ بات تسلیم نہیں کی (یہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے زبیر! (تم اپنے باغ کو سیراب کر لو) پھر اپنے پڑوسی کے لئے (پانی کو) چھوڑ دو، تو وہ انصاری غصے میں آ گیا اور بولا: یا رسول اللہ! (آپ نے یہ فیصلہ اس لئے دیا ہے) کیونکہ یہ آپ کے پھوپھی زاد ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ تبدیل ہو گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے زبیر! تم اپنے (باغ کو سیراب کرو اور پھر پانی کو روکے رکھو، یہاں تک کہ وہ منڈیروں تک پہنچ جائے ۔“
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی تھی:
” تمہارے پروردگار کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے، جب تک آپس کے اختلافی معاملات کے بارے میں تمہیں ثالث تسلیم نہ کریں ۔“
اس انصاری نے کہا: آپ پانی کو چھوڑ دیجئے تاکہ وہ گزر جائے، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اس کی یہ بات تسلیم نہیں کی (یہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے زبیر! (تم اپنے باغ کو سیراب کر لو) پھر اپنے پڑوسی کے لئے (پانی کو) چھوڑ دو، تو وہ انصاری غصے میں آ گیا اور بولا: یا رسول اللہ! (آپ نے یہ فیصلہ اس لئے دیا ہے) کیونکہ یہ آپ کے پھوپھی زاد ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ تبدیل ہو گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے زبیر! تم اپنے (باغ کو سیراب کرو اور پھر پانی کو روکے رکھو، یہاں تک کہ وہ منڈیروں تک پہنچ جائے ۔“
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی تھی:
” تمہارے پروردگار کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے، جب تک آپس کے اختلافی معاملات کے بارے میں تمہیں ثالث تسلیم نہ کریں ۔“