کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس وضاحت کا ذکر کہ نبی ﷺ کا فرمان «وإذا أمرتكم بشيء» امورِ دین کے بارے میں ہے، نہ کہ دنیاوی امور کے بارے میں۔
حدیث نمبر: 22
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ وَثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ أَصْوَاتًا ، فَقَالَ : " مَا هَذِهِ الأَصْوَاتُ ؟ " ، قَالُوا : النَّخْلُ يَأْبِرُونَهُ ، فَقَالَ : " لَوْ لَمْ يَفْعَلُوا لَصَلُحَ ذَلِكَ " ، فَأَمْسَكُوا ، فَلَمْ يَأْبِرُوا عَامَّتَهُ ، فَصَارَ شِيصًا ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " كَانَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ فَشَأْنُكُمْ ، وَكَانَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِ دِينِكُمْ فَإِلَيَّ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آوازیں سنیں۔ آپ نے دریافت کیا: یہ کس بات کی آوازیں ہیں؟ لوگوں نے عرض کی: لوگ کھجوروں کی پیوند کاری کر رہے ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر وہ ایسا نہ کریں، تو یہ زیادہ بہتر ہو گا۔
(راوی کہتے ہیں) تو وہ لوگ اس عمل سے باز آ گئے۔ انہوں نے اس سال پیوندکاری نہیں کی تو پیداوار ٹھیک نہیں ہوئی۔ اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: اگر تمہارا کوئی دنیاوی معاملہ ہو، تو اسے تم خود سنبھالو اور اگر کوئی دینی معاملہ ہو، تو وہ میری طرف آئے گا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر وہ ایسا نہ کریں، تو یہ زیادہ بہتر ہو گا۔
(راوی کہتے ہیں) تو وہ لوگ اس عمل سے باز آ گئے۔ انہوں نے اس سال پیوندکاری نہیں کی تو پیداوار ٹھیک نہیں ہوئی۔ اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: اگر تمہارا کوئی دنیاوی معاملہ ہو، تو اسے تم خود سنبھالو اور اگر کوئی دینی معاملہ ہو، تو وہ میری طرف آئے گا۔