کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس خبر کا ذکر جس میں صراحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تمام سنتیں اللہ کی طرف سے ہیں، آپ ﷺ نے اپنی طرف سے کچھ نہیں فرمایا۔
حدیث نمبر: 12
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ رُؤْبَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَوْفٍ ، عَنِ الْمِقَدْامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمَا يَعْدِلُهُ ، يُوشِكُ شَبْعَانٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ أَنْ يَقُولَ : بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ هَذَا الْكِتَابُ ، فَمَا كَانَ فِيهِ مِنْ حَلالٍ أَحْلَلْنَاهُ ، وَمَا كَانَ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاهُ ، أَلا وَإِنَّهُ لَيْسَ كَذَلِكَ " .
سیدنا مقدام بن معديكرب رضی الله عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” مجھے کتاب عطا کی گئی ہے اور وہ چیز (عطا کی گئی ہے) جو اس کے برابر ہے۔ عنقریب ایسا وقت آئے گا، جب ایک سیر (بھرے ہوئے پیٹ والا) شخص اپنے تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر یہ کہے گا: میرے اور تم لوگوں کے درمیان یہ کتاب (یعنی قرآن مجید) موجود ہے، جو چیز اس میں حلال ہو گی، ہم اسے حلال قرار دیں گے اور جو چیز اس میں حرام ہو گی، ہم اسے حرام قرار دیں گے۔، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) خبردار ایسا نہیں ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / المقدمة / حدیث: 12
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2869)، «المشكاة» (163). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي، مروان بن رؤبة: ذكره المؤلف في "ثقاته" 5/ 425، وباقي رجال الإسناد ثقات. والزبيدي: هو هو محمد بن الوليد أبو الهذيل الحمصي، وابن أبي عوف هو: عبد الرحمن الجُرَشي الحمصي.
حدیث نمبر: 13
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهُمْ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا أَعْرِفَنَّ الرَّجُلَ يَأْتِيهِ الأَمْرُ مِنْ أَمْرِي ، إِمَّا أَمَرْتُ بِهِ ، وَإِمَّا نَهِيَتُ عَنْهُ ، فَيَقُولُ : مَا نَدْرِي مَا هَذَا ، عِنْدَنَا كِتَابُ اللَّهِ لَيْسَ هَذَا فِيهِ " .
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” میں کسی ایسے شخص کو نہ پاؤں، جس کے پاس میرے احکام میں سے کوئی حکم آئے، جس کے بارے میں میں نے کرنے کا حکم دیا ہو، یا جسے کرنے سے میں نے منع کیا ہو۔ اور وہ شخص یہ کہے: ہمیں نہیں معلوم یہ کیا چیز ہے؟ ہمارے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے۔ یہ حکم اس میں، تو نہیں ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / المقدمة / حدیث: 13
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «المشكاة» (162). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، أبو إسحاق هو إبراهيم بن محمد بن الحارث.