کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ انسان پر لازم ہے کہ دنیا کی مباح چیزوں میں حد سے زیادہ دل لگانے کے بجائے نبی ﷺ کے طریقہ ہدایت کو لازم پکڑے۔
حدیث نمبر: 9
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهَا ، قَالَتْ : دَخَلَتِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ ، وَاسْمُهَا خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ بَذَّةُ الْهَيْئَةِ ، فَسَأَلَتْهَا عَائِشَةُ : مَا شَأْنُكِ ؟ فقَالَتْ : زَوْجِي يَقُومُ اللَّيْلَ ، وَيَصُومُ النَّهَارَ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ لَهُ ذَلِكَ فَلَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ ، فَقَالَ : يَا عُثْمَانُ ، " إِنَّ الرَّهْبَانِيَّةَ لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْنَا ، أَمَا لَكَ فِيَّ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ! فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ ، وَأَحْفَظُكُمْ لِحُدُودِهِ " صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تشریف لائیں ان کا نام خولہ بنت حکیم تھا۔ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئیں، تو ان کی حالت بری تھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ انہوں نے بتایا: میرے شوہر رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہیں اور دن کے وقت نفلی روزہ رکھ لیتے ہیں۔ (اسی دوران) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے آئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا تذکرہ آپ کے سامنے کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” اے عثمان! ہم پر رہبانیت لازم قرار نہیں دی گئی ہے۔ کیا تمہارے لئے میرے طریقے میں بہترین نمونہ نہیں ہے؟ اللہ کی قسم! میں تم سب لوگوں سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور اس کی حدود کا تم سب سے زیادہ خیال رکھتا ہوں۔ ‘