کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ انسان پر لازم ہے کہ صراطِ مستقیم کو لازم پکڑے اور دوسری راہوں کے پیچھے نہ چلے۔
حدیث نمبر: 7
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُعَدِّلُ بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطُوطًا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَقَالَ : " هَذِهِ سُبُلٌ ، عَلَى كُلِّ سَبِيلٍ مِنْهَا شَيْطَانٌ يَدْعُو لَهُ " ، ثُمَّ قَرَأَ : وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ ، فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ سورة الأنعام آية 153 الآيَةَ كُلَّهَا .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک لکیر کھینچی، جس کے دائیں طرف اور بائیں طرف کچھ اور لکیریں بھی کھینچی تھیں۔، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ مختلف راستے ہیں، ان میں سے ہر ایک راستے پر شیطان بیٹھا ہوا ہے، جو اس راستے کی طرف دعوت دیتا ہے “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ” بے شک یہ میرا راستہ ہے، جو مستقیم ہے۔ تو تم اس کی پیروی کرو اور تم مختلف راستوں کی پیروی نہ کرو، ورنہ وہ تم لوگوں کو اس کے راستے سے بھٹکا دے گا۔“، یہ مکمل آیت ہے۔،