کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس خبر کا ذکر جس میں بتایا گیا ہے کہ انسان پر لازم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کو لازم پکڑے۔
حدیث نمبر: 6
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعُمَرِيُّ بِالْمَوْصِلِ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا ، فَقَالَ : " هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ " ، ثُمَّ خَطَّ خُطُوطًا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " وَهَذِهِ سُبُلٌ عَلَى كُلِّ سَبِيلٍ مِنْهَا شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْهِ " ، ثُمَّ تَلا : وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا سورة الأنعام آية 153 إِلَى آخِرِ الآيَةِ .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (ایک مرتبہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک لکیر کھینچی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہاللہ تعالیٰ کا راستہ ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لکیر کے دائیں طرف اور بائیں طرف کچھ اور لکیریں کھینچیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: یہ مختلف راستے ہیں، جن میں سے ہر ایک راستے پر ایک شیطان بیٹھا ہوا ہے، جو اس راستے کی طرف دعوت دیتا ہے ۔“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ” بے شک یہ میرا راستہ ہے، جو مستقیم ہے۔ “، یہ آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر تک تلاوت کی
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / المقدمة / حدیث: 6
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «الظلال» (16 و17). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن. معلى بن مهدي هو الموصلي، قال فيه أبو حاتم في "الجرح والتعديل"8/ 335 شيخ، يحدث أحياناً بالحديث المنكر، وقال الذهبي في "الميزان": هو من العباد الخيرة، صدوق في نفسه، وقد تابعه عليه ابن وهب كما في الحديث الآتي بعده. وعاصم: هو ابن أبي النجود، حسن الحديث، وأبو وائل: شقيق بن سلمة.