صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
باب صفة النار وأهلها - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن من أدخل النار نعوذ بالله منها من هذه الأمة يخلد فيها من غير خروج منها- باب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس خبر کا جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ اس امت کے جو جہنم میں داخل ہوں گے، ہم اللہ سے اس سے پناہ مانگتے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے بغیر نکلنے کے
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، وَأَبُو يَعْلَى ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، وَهِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً " ، قَالَ يَزِيدُ : فَلَقِيتُ شُعْبَةَ فَحَدَّثْتُهُ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ شُعْبَةُ : حَدَّثَنِي بِهِ قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، إِلا أَنَّ شُعْبَةَ جَعَلَ مَكَانَ الذَّرَّةِ ذَرَّةً ، قَالَ يَزِيدُ : صَحَّفَ فِيهِ أَبُو بِسْطَامٍ ، قَالَ يَزِيدُ : فَلَقِيتُ عِمْرَانَ الْقَطَّانَ أَبَا الْعَوَّامِ فَحَدَّثْتُهُ بِالْحَدِيثِ ، فَقَالَ عِمْرَانُ : حَدَّثَنِي بِهِ قَتَادَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبَى هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَدِيثِ ، قَالَ يَزِيدُ : أَخْطَأَ فِيهِ عِمْرَانُ ، وَوَهِمَ فِيهِ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” جہنم سے ہر وہ شخص نکل جائے گا جو لا الہ الا اللہ پڑھتا ہو اور اس کے دل میں ذرے کے وزن جتنا ایمان ہو۔ “ یزید کہتے ہیں: میری ملاقات شعبہ سے ہوئی۔ میں نے انہیں یہ حدیث بیان کی، تو شعبہ نے بتایا، قتادہ نے یہ روایت سیدنا انس کے حوالے سے نقل کی ہے۔ البتہ شعبہ نے لفظ الذرہ کی بجائے ذرہ استعمال کیا ہے۔ یزید بیان کرتے ہیں: اس روایت میں ابوبسطام نامی راوی نے تصنیف کی ہے۔ یزید کہتے ہیں: میری ملاقات عمران قطان سے ہوئی۔ میں نے انہیں یہ حدیث سنائی تو عمران نے بتایا: قتادہ نے یہ حدیث عطاء بن یزید لیثی کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہونے کے طور پر مجھے سنائی تھی۔
یزید کہتے ہیں: اس روایت میں عمران نے غلطی کی ہے اور انہیں اس میں وہم ہوا ہے۔