صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
باب صفة النار وأهلها - ذكر الإخبار عن وصف بعض الناس الذين يكونون أكثر أهل النار في العقبى- باب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس خبر کا کہ آخرت میں جہنم کے اہل میں کچھ لوگ زیادہ ہوں گے
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ حِزَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ : خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَوَعَظَهُنَّ ، وَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالطَّاعَةِ لأَزْوَاجِهِنَّ ، وَقَالَ : " إِنَّ مِنْكُنَّ مَنْ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ " ، وَجَمَعَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، " وَمِنْكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ " ، وَفَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، فَقَالَتِ الْمَارِدِيَّةُ أَوِ الْمُرَادِيَّةُ : وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ ، وَتُكْثِرْنَ اللَّعْنَ ، وَتُسَوِّفْنَ الْخَيْرَ " .سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو خطبہ دیتے ہوئے انہیں وعظ و نصیحت کی، اور انہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور اپنے شوہروں کی فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کچھ خواتین وہ ہیں، جو جنت میں داخل ہوں گی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو اکٹھا کر لیا، اور کچھ خواتین وہ ہیں، جو جہنم کا ایندھن ہوں گی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ کہتے ہوئے) اپنی انگلیوں کو پھیلا لیا، تو ان میں سے ایک خاتون، جس کا تعلق مارد یا شاید مراد قبیلے سے تھا، اس نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! اس کی وجہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیونکہ تم شوہر کی ناشکری کرتی ہو، لعنت زیادہ کرتی ہو، اور بھلائی سے گریز کرتی ہو۔