حدیث نمبر: 7478
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ حِزَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ بِالصَّدَقَةِ ، وَحَثَّهُنَّ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : " تَصَدَّقْنَ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ " ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ : بِمَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ ، وَتُسَوِّفْنَ الْخَيْرَ ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ " ، وَالْعَشِيرُ : الزَّوْجُ .

سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو صدقہ کرنے کا حکم دیا اور انہیں اس کی ترغیب دی، آپ نے فرمایا: تم صدقہ کرو، کیونکہ اہل جہنم میں اکثریت تمہاری ہے۔ ان میں سے ایک خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس کی وجہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیونکہ تم لعنت بکثرت کرتی ہو، اور بھلائی کا انکار کرتی ہو، اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عشیر سے مراد شوہر ہے۔

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7478
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7435»