صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
باب وصف الجنة وأهلها - ذكر الإخبار بتحريم الله جل وعلا الجنة على الأنفس التي لم تسلم في دار الدنيا- باب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس خبر کا کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کو ان نفوس پر حرام کیا جو دنیا میں اسلام نہ لائے
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ الأَوْدِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْنَدَ ظَهْرَهُ إِلَى قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبْعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " ، قُلْنَا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّهُ لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلا كُلُّ نَفْسٍ مُسْلِمَةٍ ، وَإِنَّ مَثَلَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الْكُفَّارِ فِي الْعَدَدِ كَمَثَلِ الشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الأَسْوَدِ ، أَوِ الشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي الثَّوْرِ الأَبْيَضِ " .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا آپ نے چمڑے سے بنے ہوئے خیمے کے ساتھ ٹیک لگا لی۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: امابعد! کیا تم لوگ اس بات سے راضی ہو کہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مجھے یہ امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف ہو گے اور جنت میں صرف مسلمان داخل ہو گا۔ قیامت کے دن کفار کے مقابلے میں عدد کے اعتبار سے مسلمانوں کی تعداد اس طرح ہو گی، جس طرح سیاہ رنگ کے بیل کے جسم پر سفید بال ہو، یا سفید رنگ کے بیل کے جسم پر سیاہ بال ہو۔