صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
باب وصف الجنة وأهلها - ذكر البيان بأن أكثر ما رأى صلى الله عليه وسلم في الجنة المساكين وفي النار النساء- باب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس بیان کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت میں زیادہ تر مساکین اور جہنم میں عورتیں دیکھیں
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ غُلامُ طَالُوتَ بْنِ عَبَّادٍ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَظَرْتُ إِلَى الْجَنَّةِ ، فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِهَا الْمَسَاكِينُ ، وَنَظَرْتُ فِي النَّارِ ، فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِهَا النِّسَاءُ ، وَإِذَا أَهْلُ الْجَدِّ مَحْبُوسُونَ ، وَإِذَا الْكُفَّارُ قَدْ أُمِرَ بِهِمْ إِلَى النَّارِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : اطِّلاعُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْجَنَّةِ وَالنَّارِ مَعًا كَانَ بِجِسْمِهِ ، وَنَظَرِهِ الْعَيَانِ تَفَضُّلا مِنَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا عَلَيْهِ ، وَفَرْقًا فَرَقَ بِهِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَائِرِ الأَنْبِيَاءِ ، فَأَمَّا الأَوْصَافُ الَّتِي وَصَفَ أَنَّهُ رَأَى أَهْلَ الْجَنَّةِ بِهَا ، وَأَهْلَ النَّارِ بِهَا ، فَهِيَ أَوْصَافٌ صُوِّرَتْ لَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَعْلَمَ بِهَا مَقَاصِدَ نِهَايَةِ أَسْبَابِ أُمَّتِهِ فِي الدَّارَيْنِ جَمِيعًا ، لِيُرَغِّبَ أُمَّتَهُ بِأَخْبَارِ تِلْكَ الأَوْصَافِ لأَهْلِ الْجَنَّةِ لِيَرْغَبُوا ، وَيُرَهِّبَهُمْ بِأَوْصَافِ أَهْلِ النَّارِ لِيَرْتَدِعُوا عَنْ سُلُوكِ الْخِصَالِ الَّتِي تُؤَدِّيهِمْ إِلَيْهَا .سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” میں نے جنت کی طرف دیکھا تو اہل جنت میں اکثریت غریبوں کی تھی۔ میں نے جہنم کی طرف دیکھا تو اہل جہنم میں اکثریت خواتین کی تھی اور خوش حال لوگوں کو روک لیا گیا تھا اور کفار کو جہنم کی طرف لے جانے کا حکم دیا گیا تھا۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جنت اور جہنم دونوں میں دیکھنا آپ کے جسم مبارک کے ہمراہ تھا اور آنکھوں کے ذریعے دیکھنا تھا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر فضل تھا تاکہ اس کے ذریعے آپ کے اور دیگر انبیاء کے درمیان فرق ہو جائے۔ جہاں تک ان اوصاف کا تعلق ہے جو آپ نے وصف بیان کیا کہ آپ نے اہل جنت کو ان کے ساتھ موصوف دیکھا اور اہل جہنم کو ان کے ساتھ موصوف دیکھا تھا تو یہ وہ اوصاف ہیں جن کی شکل آپ کے سامنے پیش کی گئی تاکہ آپ اس کے ذریعے اپنی امت کے دونوں جہانوں میں اسباب کے اختتام کے مقاصد کے بارے میں جان لیں تاکہ آپ ان اوصاف کی اطلاع کے ذریعے اپنی امت کو ترغیب دیں تاکہ وہ رغبت حاصل کریں اور جہنم کے اوصاف کے ذریعے انہیں ڈرائیں تاکہ وہ ان خصوصیات کو اختیار کرنے سے بچیں جو جہنم کی طرف لے جا سکتی ہیں۔