صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
باب وصف الجنة وأهلها - ذكر الإخبار بإنشاء الله من أراد من خلقه من حيث يريد دون أولاد آدم ليسكنهم الجنان في العقبى- باب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس خبر کا کہ اللہ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہے جہاں سے چاہے پیدا کرے گا، سوائے اولاد آدم کے، تاکہ آخرت میں انہیں جنتوں میں بسائے
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ بِعَسْقَلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَحَاجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ، فَقَالَتِ النَّارُ : أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ ، وَقَالَتِ الْجَنَّةُ : لا يَدْخُلُنِي إِلا ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ ، فَقَالَ اللَّهُ لِلْجَنَّةِ : أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي ، وَقَالَ لِلنَّارِ : أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي ، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا ، فَأَمَّا النَّارُ ، فَلا تَمْتَلِئُ حَتَّى يَضَعَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا قَدَمَهُ فِيهَا ، فَتَقُولُ : قَطْ قَطْ فَهُنَاكَ تَمْتَلِئُ ، وَيَنْزَوِي بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ ، وَلا يَظْلِمُ اللَّهُ أَحَدًا ، وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا يُنْشِئُ لَهَا خَلْقًا " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْقَدَمُ مَوَاضِعُ الْكُفَّارِ الَّتِي عَبَدُوا فِيهَا دُونَ اللَّهِ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” جنت اور جہنم میں بحث ہو گئی۔ جہنم نے کہا: مجھے تکبر کرنے والوں اور جابر لوگوں کے ذریعے ترجیح دی گئی ہے۔ جنت نے کہا: میرے اندر صرف کمزور اور عام سے لوگ داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا: تم میری رحمت ہو۔ میں تمہارے ذریعے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں گا رحمت کروں گا، اور اللہ تعالیٰ نے جہنم سے فرمایا: تم میرا عذاب ہو میں تمہارے ذریعے اپنے بندوں میں سے جیسے چاہوں گا عذاب دوں گا اور تم میں ہر ایک کو بھرنا ہے۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) جہاں تک جہنم کا تعلق ہے، تو وہ اس وقت تک نہیں بھرے گی جب تک اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں نہیں رکھے گا تو وہ عرض کرے گی: بس بس۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔ اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ ظلم نہیں کرے گا جہاں تک جنت کا تعلق ہے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) پاؤں سے مراد کفار کے وہ مقامات ہیں جہاں وہ اللہ تعالیٰ کی بجائے دوسروں کی عبادت کیا کرتے تھے۔