صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
باب وصف الجنة وأهلها - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن إسماعيل بن أبي خالد لم يسمع هذا الخبر من قيس بن أبي حازم- باب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس خبر کا جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ اسماعیل بن ابی خالد نے یہ خبر قیس بن ابی حازم سے نہیں سنی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بِسْطَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، قَالَ : قَالَ لِي جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، فَقَالَ : " أَمَا إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا ، لا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لا تُغْلَبُوا عَلَى صَلاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ، فَافْعَلُوا " ، ثُمَّ قَرَأَ : وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا .قیس بیان کرتے ہیں: سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھ کر فرمایا: عنقریب تم اپنے پروردگار کا اس طرح دیدار کرو گے، جس طرح تم اسے دیکھ رہے ہو۔ اسے دیکھنے میں تمہیں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ اگر تم سے ہو سکے تو تم سورج طلوع ہونے سے پہلے والی اور سورج غروب ہونے سے پہلے والی نماز کے حوالے سے مغلوب نہ ہونا۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی۔ ” تم اپنے پروردگار کی حمد کے ہمراہ پاکی بیان کرو سورج طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے۔ “