صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
باب وصف الجنة وأهلها - ذكر البيان بأن رؤية المؤمنين ربهم في المعاد من الزيادة التي وعد الله جل وعلا عباده على الحسنى التي يعطيهم إياها- باب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس بیان کا کہ مومنین کا اپنے رب کو آخرت میں دیکھنا اس زائد نعمت کا حصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حسنات کے ساتھ دینے کا وعدہ کیا
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، وَحَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْلَةَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ ، فَقَالَ : " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا ، لا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لا تُغْلَبُوا عَنْ صَلاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَصَلاةٍ قَبْلَ غُرُوبِهَا ، فَافْعَلُوا " ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ : وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا .سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ تاریخ کی رات کو چودھویں کے چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا: عنقریب تم اپنے پروردگار کا اسی طرح دیدار کرو گے، جس طرح تم اسے دیکھ رہے ہو اسے دیکھنے میں تمہیں کوئی مشکل پیش نہیں آ رہی۔ اگر تم سے ہو سکے تو تم سورج کے طلوع ہونے سے پہلے والی اور غروب ہونے سے پہلے والی نماز کے حوالے سے مغلوب نہ ہونا۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی۔ ” اور تم اپنے پروردگار کی حمد کے ہمراہ پاکی بیان کرو، سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے۔ “