صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
باب وصف الجنة وأهلها - ذكر البيان بأن رؤية المؤمنين ربهم في المعاد من الزيادة التي وعد الله جل وعلا عباده على الحسنى التي يعطيهم إياها- باب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس بیان کا کہ مومنین کا اپنے رب کو آخرت میں دیکھنا اس زائد نعمت کا حصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حسنات کے ساتھ دینے کا وعدہ کیا
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتُ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ : تَلا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الآيَةَ : لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ ، قَالَ : " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ نَادَى مُنَادٍ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ مَوْعِدًا يُحِبُّ أَنْ يُنْجِزَكُمُوهُ ، فَيَقُولُونَ : وَمَا هُوَ ؟ أَلَمْ يُثَقِّلِ اللَّهُ مَوَازِينَنَا ، وَيُبَيَّضْ وُجُوهَنَا ، وَيُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ ، وَيُجِرْنَا مِنَ النَّارِ ؟ قَالَ : فَيُكْشَفُ الْحِجَابُ ، فَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ ، فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمُ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ " .سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی۔ ” جن لوگوں نے اچھائی کی ان کے لیے اچھائی ہے اور مزید ہے۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اہل جنت، جنت میں داخل ہو جائیں گے اور اہل جہنم، جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو ایک منادی یہ اعلان کرے گا: اے اہل جنت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہارے لیے ایک وعدہ ہے وہ یہ چاہتا ہے کہ وہ اسے تمہارے ساتھ پورا کر دے۔ وہ دریافت کریں گے: وہ کیا ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ نے ہمارے میزان کو وزنی نہیں کیا، ہمارے چہروں کو روشن نہیں کیا اور ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا اور ہمیں جہنم سے نجات عطا نہیں کی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تو پردہ ہٹایا جائے گا تو وہ لوگ اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے انہیں جو کچھ بھی عطا کیا ہے ان میں سے کوئی بھی چیز ان کے نزدیک اپنے پروردگار کا دیدار کرنے سے زیادہ محبوب نہیں ہو گی۔