صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
باب وصف الجنة وأهلها - ذكر الإخبار عما يكون متعقب طعام أهل الجنة وشرابهم- باب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس خبر کا کہ جنت کے اہل کے کھانے اور پینے کے بعد کیا ہوگا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ ، فَقَالَ : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ فِيهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّ أَحَدَهُمُ لَيُعْطَى قُوَّةَ مِئَةِ رَجُلٍ فِي الْمَطْعَمِ ، وَالْمَشْرَبِ ، وَالشَّهْوَةِ ، وَالْجِمَاعِ " ، فَقَالَ لَهُ الْيَهُودِيُّ : فَإِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَاجَتُهُمْ عَرَقٌ يَفِيضُ مِنْ جُلُودِهِمْ مِثْلُ الْمِسْكِ ، فَإِذَا الْبَطْنُ قَدْ ضَمُرَ " .سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: یہودیوں کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: اے ابوالقاسم! کیا آپ اس بات کے قائل ہیں کہ اہل جنت جنت میں کھائیں گے بھی اور پئیں گے بھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ہر جنتی کو کھانے پینے، شہوت اور صحبت کرنے میں ایک سو آدمیوں جتنی قوت دی جائے گی۔ ان یہودیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: جو شخص کھاتا اور پیتا ہے۔ اسے قضائے حاجت کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی قضائے حاجت پسینے کی شکل میں ہو گی جو مشک کی طرح کا (خوشبودار) وہ ان کے جسم سے نکل جائے گا، اور پیٹ ویسے ہی ہلکا پھلکا رہے گا۔