صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
باب وصف الجنة وأهلها - ذكر الإخبار عما تشبه شجرة طوبى من أشجار هذه الدنيا- باب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس خبر کا کہ طوبیٰ کا درخت دنیا کے درختوں سے کس چیز سے مشابہت رکھتا ہے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الدَّارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَعْمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَخِي ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ زَيْدٍ الْبِكَالِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ ، يَقُولُ : قَامَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَا فَاكِهَةُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : " فِيهَا شَجَرَةٌ تُدْعَى طُوبَى " ، فَقَالَ : أَيُّ شَجَرِنَا تُشْبِهُ ؟ قَالَ : " لَيْسَ تُشْبِهُ شَجَرًا مِنْ شَجَرِ أَرْضِكَ ، وَلَكِنْ أَتَيْتَ الشَّامَ ؟ " ، قَالَ : لا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَإِنَّهَا شَجَرَةٌ بِالشَّامِ تُدْعَى الْجُمَيْزَةَ تَشْتَدُّ عَلَى سَاقٍ ، ثُمَّ يُنْشَرُ أَعْلاهَا " ، قَالَ : مَا عِظَمُ أَصْلِهَا ؟ قَالَ : " لَوِ ارْتَحَلْتَ جَذَعَةً مِنْ إِبِلِ أَهْلِكَ مَا أَحَطْتَ بِأَصْلِهَا حَتَّى تَنْكَسِرَ تُرْقُوَتَاهَا هَرَمًا " .سیدنا عتبہ بن عبدسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا اس نے دریافت کیا۔ جنت کے پھل کیسے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جنت میں ایک درخت طوبیٰ ہے۔ دیہاتی نے دریافت کیا۔ ہمارے درختوں میں سے کون سا درخت اس سے مشابہت رکھتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تمہارے علاقے کا کوئی درخت اس سے مشابہت نہیں رکھتا، کیا تم شام گئے ہو؟ اس نے عرض کی: جی نہیں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شام میں ایک درخت ہے جس کا نام جمیزہ ہے اس کے تنے کو باندھا جاتا ہے اور پھر اوپری حصے کو کھول دیا جاتا ہے۔ اس دیہاتی نے دریافت کیا: (جنت کے اس درخت) کی جڑ کتنی بڑی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اپنے گھر کے اونٹوں میں سے ایک کم سن اونٹ پر پالان رکھو تو پھر بھی تم اس کی جڑ کو اس وقت تک عبور نہیں کر سکو گے جب تک اس اونٹ کی ہڈیاں بڑھاپے کی وجہ سے ٹوٹ نہیں جاتیں۔