صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
باب وصف الجنة وأهلها - ذكر الإخبار بأن المرأة التي وصفنا نعتها من المزيد الذي ذكر الله في كتابه ووعد التمكن منه لأوليائه- باب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس خبر کا کہ ہم نے جن عورتوں کی نعت بیان کی وہ اس زائد نعمت کا حصہ ہیں جو اللہ نے اپنے کتاب میں ذکر کی اور اپنے اولیاء کو اس کے حصول کا وعدہ دیا
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ دَرَّاجًا حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الرَّجُلَ فِي الْجَنَّةِ لَيَتَّكِئُ سَبْعِينَ سَنَةً قَبْلَ أَنْ يَتَحَوَّلَ ، ثُمَّ تَأْتِيهِ الْمَرْأَةُ ، فَتَقْرُبُ مِنْهُ ، فَيَنْظُرُ فِي خَدَّهَا أَصْفَى مِنَ الْمِرْآةِ ، فَتُسَلِّمُ عَلَيْهِ ، فَيَرُدُّ السَّلامَ ، وَيَسْأَلُهَا مَنْ أَنْتِ ؟ فَتَقُولُ : أَنَا مِنَ الْمَزِيدِ ، وَإِنَّهُ يَكُونُ عَلَيْهَا سَبْعُونَ ثَوْبًا ، فَيَنْفُذُهَا بَصَرُهُ حَتَّى يَرَى مُخَّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ ، وَإِنَّ عَلَيْهِنَّ التِّيجَانَ ، وَإِنَّ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ عَلَيْهَا لَتُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ " .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” جنت میں کوئی شخص ستر سال تک پہلو بدلے بغیر ٹیک لگا کر بیٹھا رہا کرے گا پھر اس کی بیوی اس کے پاس آئے گی وہ اس کے قریب ہو گی وہ جنتی اس عورت کے رخسار میں (اپنی شکل کو) شیشے سے زیادہ صاف دیکھ لے گا۔ وہ عورت اسے سلام کرے گی وہ اس کے سلام کا جواب دے گا وہ اس عورت سے دریافت کرے گا تم کون ہو۔ وہ یہ کہے گی میں اضافی نعمتوں میں سے ہوں۔ اس عورت نے ستر قسم کے کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے جب وہ جنتی اس عورت پر نظر ڈالے گا تو ان کپڑوں کے پیچھے سے اس کی پنڈلی کا گودا نظر آئے گا اور ان عورتوں نے تاج پہنے ہوئے ہوں گے اور ان پر موجود سب سے کم تر موتی (اتنا چمکدار ہو گا) کہ وہ مشرق اور مغرب کے درمیان کی ساری جگہ کو روشن کر دے۔ “