صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
باب وصف الجنة وأهلها - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن الفردوس الأعلى لا يسكنه أحد خلا الأنبياء- باب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس خبر کا جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ فردوس اعلیٰ میں انبیاء کے علاوہ کوئی نہیں رہتا
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَاجِكٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ حَارِثَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ هَلَكَ حَارِثَةُ يَوْمَ بَدْرٍ ، أَصَابَهُ سَهْمُ غَرْبٍ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَلِمْتَ مَوْقِعَ حَارِثَةَ مِنْ قَلْبِي ، فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ لَمْ أَبْكِ عَلَيْهِ ، وَإِلا سَوْفَ تَرَى مَا أَصْنَعُ ، فَقَالَ لَهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَجَنَّةٌ وَاحِدَةٌ هِيَ ، إِنَّمَا هِيَ جِنَانٌ كَثِيرَةٌ ، وَإِنَّهُ فِي الْفِرْدَوْسِ الأَعْلَى " .سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدہ ام حارثہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں انتقال کر گئے تھے۔ انہیں ایک نامعلوم تیر لگا تھا۔ اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ! حارثہ کی میرے دل میں جو جگہ تھی اس سے آپ واقف ہیں۔ اگر وہ جنت میں ہے تو میں اس پر نہیں روتی۔ ورنہ پھر آپ دیکھ لیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: کیا جنت کا ایک درجہ ہے، جنت کے کئی درجات ہیں اور وہ فردوس اعلیٰ میں ہے۔