صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
باب إخباره صلى الله عليه وسلم عن البعث وأحوال الناس في ذلك اليوم - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن أحدا في القيامة لا يحمل وزر أحد- باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس خبر کا جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ قیامت میں کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ ؟ " ، قَالُوا : الْمُفْلِسُ فِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لا دِرْهَمَ لَهُ ، وَلا مَتَاعَ لَهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُفْلِسُ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلاتِهِ وَصِيَامِهِ وَزَكَاتِهِ ، فَيَأْتِي وَقَدْ شَتَمَ هَذَا ، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا ، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا ، وَضَرَبَ هَذَا ، فَيَقْعُدُ ، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَ مَا عَلَيْهِ ، أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ ، فَطُرِحَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو؟ مفلس کون ہے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے درمیان مفلس وہ شخص ہوتا ہے، جس کے پاس درہم نہ ہوں اور ساز و سامان نہ ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت سے تعلق رکھنے والا وہ شخص مفلس ہو گا، جو قیامت کے دن اپنی نمازیں، روزے اور زکوۃ لے کر آئے گا۔ جب وہ آئے گا تو اس نے کسی کو برا کہا: ہو گا۔ کسی کا مال کھایا ہو گا۔ کسی کا خون بہایا ہو گا۔ کسی کو مارا ہو گا، تو وہ شخص بیٹھ جائے گا۔ پھر اس کی نیکیوں میں سے کسی کو کچھ دے دیا جائے گا۔ کسی کو اس کی کچھ نیکیاں دے دی جائیں گی۔ پھر اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی اور اس کے ذمے ادائیگی ابھی باقی ہو گی، تو دوسرے لوگوں کی خطائیں لی جائیں گی (اور اس کے نامہ اعمال میں ڈال دی جائیں گی) پھر اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔