صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
باب إخباره صلى الله عليه وسلم عن البعث وأحوال الناس في ذلك اليوم - ذكر الخبر الدال على أن من كان مغفورا له من هذه الأمة أخذ به في القيامة ذات اليمين ومن سخط عليه أخذ به ذات الشمال- باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس خبر کا جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس امت میں سے جسے معافی دی گئی وہ قیامت میں دائیں طرف سے لیا جائے گا اور جس پر غضب ہوا وہ بائیں طرف سے لیا جائے گا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْعِظَةٍ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ عُرَاةً حُفَاةً غُرْلا ، كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ أَلا وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلْقِ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ ، أَلا وَإِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي ، فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ ، فَأَقُولُ : " يَا رَبِّ أَصْحَابِي أَصْحَابِي " ، فَيُقَالُ : إِنَّكَ لا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ، فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ : وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ ، فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ، إِلَى قَوْلِهِ : الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ، فَيُقَالُ : إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان وعظ کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! تم لوگوں کو برہنہ جسم، برہنہ پاؤں، ختنوں کے بغیر (قیامت کے دن) اٹھایا جائے گا (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ” جس طرح ہم نے پہلے تخلیق کیا تھا اس طرح ہم دوبارہ تخلیق کریں گے۔ یہ ہمارا وعدہ ہے۔ ہم ایسا ضرور کریں گے۔ “
(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) خبردار! مخلوق میں سب سے پہلے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا۔ خبردار! میری امت کے کچھ افراد کو لایا جائے گا اور انہیں پکڑ کر بائیں طرف لے جایا جائے گا، تو میں یہ کہوں گا: اے میرے پروردگار! یہ میرے ساتھی ہیں یہ میرے ساتھی ہیں، تو یہ کہا: جائے گا: تم نہیں جانتے کہ تمہارے بعد انہوں نے کیا کیا تھا، تو میں وہی کہوں گا جو ایک نیک بندے نے کہا: تھا (جس کا ذکر قرآن میں ہے) ” جب تک میں ان کے درمیان رہا میں ان پر گواہ تھا اور جب تو نے مجھے موت دے دی تو تُو ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔ “ یہ آیت یہاں تک ہے ” غالب اور حکمت والا ہے۔ “ تو یہ کہا: جائے گا: یہ ایڑیوں کے بل مرتد ہو گئے تھے۔