صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
باب إخباره صلى الله عليه وسلم عن البعث وأحوال الناس في ذلك اليوم - ذكر الإخبار بأن يوم القيامة لا تقبل فيه الأعمال إلا ممن كان مخلصا في إتيانها في الدنيا- باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس خبر کا کہ قیامت کے دن اعمال اسی شخص سے قبول ہوں گے جو دنیا میں انہیں خلوص سے لایا
أَخْبَرَنَا أَبُو يَزِيدَ خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِينَاءٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الأَنْصَارِيِّ وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ فِي يَوْمٍ لا رَيْبَ فِيهِ ، نَادَى مُنَادِي : مَنْ أَشْرَكَ فِي عَمَلٍ عَمِلَهُ لِلَّهِ ، فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنَ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ ، فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الصَّحِيحُ هُوَ أَبُو سَعْدِ بْنُ أَبِي فَضَالَةَ .سیدنا ابوسعید بن ابوفضالہ انصاری رضی اللہ عنہ جو صحابہ کرام میں سے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب اللہ تعالیٰ اس دن تمام پہلے اور بعد والے لوگوں کو اکٹھا کر لے گا، جس دن کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے، ایک منادی یہ اعلان کرے گا، جس شخص نے کسی ایسے عمل میں، جو اسے اللہ تعالیٰ کے لیے کرنا چاہئے تھا اس میں کسی دوسرے کو شریک کیا ہو، تو وہ اپنا ثواب اللہ تعالیٰ کی بجائے اس دوسرے سے لے کیونکہ اللہ تعالیٰ شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہے۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) صحیح یہ ہے کہ راوی کا نام سیدنا ابوسعد بن ابوفضالہ ہے۔