صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
باب إخباره صلى الله عليه وسلم عن البعث وأحوال الناس في ذلك اليوم - ذكر القدر الذي تدنو الشمس من الناس يوم القيامة- باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس مقدار کا کہ قیامت کے دن سورج لوگوں کے کتنا قریب ہوگا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْمِقْدَادُ ، صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ، أُدْنِيَتِ الشَّمْسُ مِنَ الْعِبَادِ حَتَّى تَكُونَ قِيدَ مِيلٍ أَوْ مِيلَيْنِ " ، قَالَ سُلَيْمٌ : لا أَدْرِي أَيُّ الْمِيلَيْنِ يَعْنِي أَمَسَافَةُ الأَرْضِ أَمِ الْمِيلَ الَّذِي تُكَحَّلُ بِهِ الْعَيْنُ ؟ قَالَ : " فَتَصْهَرُهُمُ الشَّمْسُ ، فَيَكُونُونَ فِي الْعَرَقِ كَقَدْرِ أَعْمَالِهِمْ ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى عَقِبَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى حَقْوَيْهِ ، وَمِنْهُ مَنْ يُلْجِمُهُ إِلْجَامًا " ، قَالَ : فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى فِيهِ ، يَقُولُ : " يُلْجِمُهُمْ إِلْجَامًا " .سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جب قیامت کا دن ہو گا، تو سورج لوگوں کے قریب ہو جائے گا، یہاں تک کہ وہ ایک میل یا دو میل جتنا دور ہو گا۔ سلیم نامی راوی کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم اس سے مراد کون سا میل ہے؟ کیا میل کی مسافت مراد ہے؟ یا وہ سلائی مراد ہے جس کے ذریعے آنکھ میں سرمہ لگایا جاتا ہے۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج ان کے قریب ترین ہو گا اور وہ لوگ پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے جو اپنے اعمال کے حساب سے ہوں گے ان میں سے کچھ کا پسینہ ان کے ٹخنوں تک آ رہا ہو گا۔ کچھ کا گھٹنوں تک آ رہا ہو گا۔ کچھ کا پیٹ کے نچلے حصے تک آ رہا ہو گا۔ کچھ کا منہ تک آ رہا ہو گا۔
راوی بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنے منہ کی طرف اشارہ کر کے یہ فرمایا: اس کی لگام اس کے منہ میں ڈالی جائے گی۔