صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
باب إخباره صلى الله عليه وسلم عن البعث وأحوال الناس في ذلك اليوم - ذكر ترك إنكار المصطفى صلى الله عليه وسلم على قائل ما وصفنا مقالته- باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول پر انکار نہ کرنے کا جو ہم نے بیان کیا
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " جَاءَ حَبْرٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ جَعَلَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالْخَلائِقَ كُلَّهَا عَلَى إِصْبَعٍ ، ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ تَعَجُّبًا لَمَّا قَالَ الْيَهُودِيُّ تَصْدِيقًا لَهُ " ، ثُمَّ قَرَأَ : وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: یہودیوں کا ایک عالم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! جب قیامت کا دن آئے گا، تو اللہ تعالیٰ تمام آسمانوں کو اپنی ایک انگلی پر رکھے گا اور تمام زمینوں کو اپنی ایک انگلی پر رکھے گا اور درختوں کو ایک انگلی پر رکھے گا اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر رکھے گا اور پھر انہیں ہلائے گا اور فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں۔
(راوی کہتے ہیں) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسکراتے ہوئے دیکھا، یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نمایاں ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہودی کے اس قول پر خوش ہو کر اس کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے (مسکرائے تھے) آپ نے یہ آیت تلاوت کی ” لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی صحیح طرح سے قدر نہیں کی، تمام زمین قیامت کے دن اس کے قبضہ قدرت میں ہو گی۔ “