صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
باب الحجاز واليمن والشام وفارس وعمان - ذكر شهادة المصطفى صلى الله عليه وسلم لأهل فارس بقول الإيمان والحق- باب: حجاز، یمن، شام، فارس اور عمان کے متعلق بیان - ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل فارس کے لیے ایمان اور حق کے قول کی گواہی کا
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ : وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ، فَقَالَ رَجُلٌ : مَنْ هَؤُلاءِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَلَمْ يُجِبْهُ ، فَعَادَ وَمَضَى سَلْمَانُ ، فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنْكِبِهِ ، وَقَالَ : " لَوْ كَانَ الإِيمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ رِجَالٌ مِنْ قَوْمِ هَذَا " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ” اور ان میں سے بعد میں آنے والے لوگ بھی ہیں، جو ان سے نہیں ملے ہیں۔ “ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ کون لوگ ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس شخص نے دوبارہ سوال دہرایا، اس دوران سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے ارشاد فرمایا: اگر ایمان ثریا (ستارے) پر لٹکا ہوا ہو تو اس کی قوم کے کچھ لوگ وہاں سے بھی اسے حاصل کر لیں گے۔