صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
باب الحجاز واليمن والشام وفارس وعمان - ذكر الإخبار عما يستحب للمرء من سكنى الشام عند ظهور الفتن بالمسلمين- باب: حجاز، یمن، شام، فارس اور عمان کے متعلق بیان - ذکر اس خبر کا کہ فتنوں کے ظہور پر مسلمانوں کے لیے شام میں سکونت مستحب ہے
أَخْبَرَنَا مَكْحُولٌ بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَكْحُولٌ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ سَتُجَنَّدُونَ أَجْنَادًا : جُنْدًا بِالشَّامِ ، وَجُنْدًا بِالْعِرَاقِ ، وَجُنْدًا بِالْيَمَنِ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خِرْ لِي ؟ قَالَ : " عَلَيْكَ بِالشَّامِ ، فَمَنْ أَبَى فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ ، وَلْيَسْقِ مِنْ غُدَرِهِ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ " .سیدنا عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” تم عنقریب کچھ لشکروں کو پاؤ گے۔ ایک لشکر شام میں ہو گا۔ ایک لشکر عراق میں ہو گا۔ ایک لشکر یمن میں ہو گا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ میرے لیے کسی ایک کو اختیار کر لیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر شام کو اختیار کرنا لازم ہے، جو شخص نہیں مانتا وہ (لوگوں کی آبادی سے ہٹ کر ویرانوں میں) اپنی بھیڑ بکریوں کے ساتھ رہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شام اور اہل شام کے لیے مجھے ضمانت دی ہے۔ “