صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
باب فضل الصحابة والتابعين رضي الله عنهم - ذكر إرادة المصطفى صلى الله عليه وسلم أن يعد نفسه من الأنصار لولا الهجرة- باب: صحابۂ کرام اور تابعین رضی اللہ عنہم کے فضائل کا بیان - ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ارادہ کا کہ اگر ہجرت نہ ہوتی تو وہ خود کو انصار میں سے شمار کرتے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ ، فَأَعْطَى الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ ، وَعُيَيْنَةَ بْنَ بَدْرٍ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ ، وَذَكَرَ نَفَرًا مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُعْطِي غَنَائِمَنَا قَوْمًا تَقْطُرُ سُيُوفُنَا مِنْ دِمَائِهِمْ ، أَوْ تَقْطُرُ دِمَاؤُهُمْ فِي سُيُوفِنَا ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ ، فَجَمَعَ الأَنْصَارَ ، فَقَالَ : " هَلْ فِيكُمْ غَيْرُكُمْ ؟ " ، فَقَالُوا : لا ، غَيْرَ ابْنِ أُخْتِنَا ، قَالَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ " ، ثُمَّ قَالَ : " يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، أَمَا تَرْغَبُونَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا أَوْ بِالشَّاءِ وَالإِبِلِ ، وَتَذْهَبُونَ بِمُحَمَّدٍ إِلَى دِيَارِكُمْ ؟ " ، قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوْ أَخَذَ النَّاسُ وَادِيًا ، وَأَخَذَ الأَنْصَارُ شِعْبًا ، لأَخَذْتُ شِعْبَ الأَنْصَارِ ، الأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي ، وَلَوْلا الْهِجْرَةُ ، لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الأَنْصَارِ " .سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا۔ آپ نے اقرع بن حابس کو ایک سو اونٹ دیئے، عیینہ بن بدر کو ایک سو اونٹ دیئے پھر سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے انصار کے ایک گروہ کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہا: ان لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے ہمارا مال غنیمت ان لوگوں کو دے دیا جن کے خون ہماری تلواروں سے ٹپک رہے ہیں (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں:) ان کا خون ہماری تلواروں میں ٹپک رہا ہے۔ اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی، تو آپ نے انصار کو اکٹھا کیا، آپ نے فرمایا: کیا تمہارے درمیان تمہارے علاوہ کوئی اور ہے۔ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں صرف ہمارا ایک بھانجا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوم کا بھانجا ان کا حصہ ہوتا ہے۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اے انصار کے گروہ کیا تم اس بات میں دلچسپی نہیں رکھتے کہ لوگ دنیاوی چیزیں بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے علاقے میں لے جاؤ۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے، اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری گھاٹی میں جائیں، تو میں انصار کی گھاٹی کو اختیار کروں گا۔ انصار میرے انتہائی قریبی ہیں اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا۔