صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
باب فضل الصحابة والتابعين رضي الله عنهم - ذكر قضاء الأنصار ما كان عليهم للمصطفى صلى الله عليه وسلم- باب: صحابۂ کرام اور تابعین رضی اللہ عنہم کے فضائل کا بیان - ذکر انصار کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جو واجب تھا اسے پورا کرنے کا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا عَاصِبًا رَأْسَهُ ، فَتَلَقَّاهُ ذَرَارِيُّ الأَنْصَارِ وَخَدَمُهُمْ مَا هُمْ بِوجُوهِ الأَنْصَارِ يَوْمَئِذٍ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأُحِبُّكُمْ " ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الأَنْصَارَ قَدْ قَضَوَا الَّذِي عَلَيْهِمْ ، وَبَقِيَ الَّذِي عَلَيْكُمْ ، فَأَحْسِنُوا إِلَى مُحْسِنِهِمْ ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے آپ نے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی۔ آپ کے سامنے انصار کے کچھ بچے اور خدمت گزار آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں تم لوگوں سے محبت کرتا ہوں یہ بات آپ نے دو یا تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: بے شک انصار نے اس چیز کو ادا کر دیا ہے، جو ان کے ذمے لازم تھا، اور اب وہ چیز باقی رہ گئی ہے جو تمہارے ذمے لازم ہے، تو تم ان میں سے اچھے شخص کے ساتھ اچھائی کرنا اور ان کے برے شخص سے درگزر کرنا۔