صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
باب فضل الأمة - ذكر الإخبار بأن العلامة التي ذكرناها هي لأمة المصطفى صلى الله عليه وسلم دون غيرها من سائر الأمم- باب: امتِ (محمدی) کے فضائل کا بیان - ذکر اس خبر کا کہ ہم نے جو علامت ذکر کی وہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے ہے، دیگر امتوں کے لیے نہیں
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ حَوْضِي لأَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ إِلَى عَدْنَ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ ، وَلَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنِّي لأَذُودُ عَنْهُ الرِّجَالَ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ الإِبِلَ الْغَرِيبَةَ عَنْ حَوْضِهِ " ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَتَعْرِفُنَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ لَيْسَ لأَحَدٍ غَيْرِكُمْ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لأَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ إِلَى عَدْنَ " ، تَأْكِيدٌ فِي الْقَصْدِ ، لا أَنَّهُ أَبْعَدُ مِنْهُمَا .سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” میرا حوض اس سے زیادہ بڑا ہے جتنا ایلہ سے لے کر عدن تک کا فاصلہ ہے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ اس حوض کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں اور اس کا مشروب دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اس حوض سے کچھ لوگوں کو پرے کیا جائے گا، جس طرح کوئی شخص اپنے حوض سے اجنبی اونٹوں کو پرے کرتا ہے، تو عرض کی گئی یا رسول اللہ! کیا آپ ہمیں پہچان لیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ تم میرے پاس چمکدار پیشانیوں کے ساتھ آؤ گے جو وضو کرنے کی وجہ سے ہو گی (یہ علامت) تمہارے علاوہ کسی کی نہیں ہو گی۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ” اس سے زیادہ دور ہے جتنا ایلہ سے لے کر عدن تک کا فاصلہ ہے “ یہاں مقصود میں تاکید پیدا کرنا مراد ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ ان دونوں سے زیادہ دور ہو گا۔