صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر الخبر الدال على أن صفية بنت حيي من أمهات المؤمنين- باب: ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر اس خبر کا جو اس بات کی دلیل ہے کہ صفیہ بنت حیی امہات المؤمنین میں سے ہیں
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلاثًا يَبْنِي بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ ، فَدَعَوْتُ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ ، فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ ، وَلا لَحْمٍ ، أَمَرَنَا بِالأَنْطَاعِ ، فَأُلْقِيَ فِيهَا مِنَ التَّمْرِ وَالأَقِطِ وَالسَّمْنِ ، فَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ : إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ هِيَ أَوْ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ ، وَقَالُوا : إِنْ يَحْجُبْهَا ، فَهِيَ مِنَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا ، فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ ، فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّى لَهَا مِنْ خَلْفِهِ ، وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ منورہ کے درمیان کسی جگہ پر تین دن تک قیام کیا آپ نے سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کی رخصتی کروائی تھی میں اہل ایمان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمے کے لئے بلا کر لایا تھا اس میں روٹی یا گوشت نہیں تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دسترخوان لانے کا حکم دیا تو اس دسترخوان پر کھجوریں، پنیر اور گھی رکھ دیا گیا، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ مسلمانوں نے کہا: یہ امہات المؤمنین میں سے ایک شمار ہوں گی یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیز شمار ہوں گی، تو دوسروں نے جواب دیا: اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا پردہ کروایا تو یہ امہات المؤمنین میں شمار ہوں گی اگر پردہ نہ کروایا تو یہ آپ کی کنیز شمار ہوں گی۔
(راوی بیان کرتے ہیں:) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہونے لگے تو آپ نے اس خاتون کے لئے اپنے پیچھے جگہ بنائی اور اس خاتون کے اور لوگوں کے درمیان پردہ کھینچ دیا۔