صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر تعظيم النبي صلى الله عليه وسلم صفية ورعايته حقها- باب: ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صفیہ کی تعظیم اور ان کے حق کی رعایت کا
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : بَلَغَ صَفِيَّةَ أَنَّ حَفْصَةَ ، قَالَتْ لَهَا : ابْنَةُ يَهُودِيٍّ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهَا وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَا يُبْكِيكِ ؟ " ، قَالَتْ : قَالَتْ لِي حَفْصَةُ : إِنِّي بِنْتُ يَهُودِيٍّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكِ لابْنَةُ نَبِيٍّ ، وَإِنَّ عَمَّكِ لِنَبِيٌّ ، وَإِنَّكِ لَتَحْتَ نَبِيٍّ ، فَبِمَ تَفْخَرُ عَلَيْكِ ؟ " ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّقِي اللَّهَ يَا حَفْصَةُ " .سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کی اطلاع ملی کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان کے بارے میں یہ کہا: ہے: وہ ایک یہودی کی بیٹی ہے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے تو وہ رو رہی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم کیوں رو رہی ہو۔ انہوں نے عرض کی: حفصہ نے میرے بارے میں یہ کہا: ہے: میں یہودی کی بیٹی ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایک نبی کی اولاد ہو اور تمہارے (آباؤ اجداد میں) ایک چچا نبی تھے اور تم ایک نبی کی بیوی ہو، تو پھر حفصہ کس بات پر تمہارے سامنے فخر کر سکتی ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے) فرمایا: اے حفصہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔