صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر أبي سفيان بن حرب رضي الله عنه- باب: ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّرْقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ الْمُسْلِمُونَ لا يَنْظُرُونَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ ، وَلا يُجَالِسُونَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ثَلاثَ خِصَالٍ أَسْأَلُكَ أَنْ تُعْطِيَنِيهِنَّ ؟ قَالَ : وَمَا هِيَ ؟ قَالَ : عِنْدِي أَجْمَلُ الْعَرَبِ وَأَحْسَنُهَا أُمُّ حَبِيبَةَ أُزَوِّجُكَهَا ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَمُعَاوِيَةُ تَجْعَلُهُ كَاتِبًا بَيْنَ يَدَيْكَ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَتُؤَمِّرُنِي حَتَّى أُقَاتِلَ الْمُشْرِكِينَ كَمَا كُنْتُ أُقَاتِلُ الْمُسْلِمِينَ ، قَالَ : نَعَمْ " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: پہلے مسلمان ابوسفیان کی طرف دیکھتے نہیں تھے اس کی ہم نشینی اختیار نہیں کرتے تھے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں تین چیزوں کے بارے میں آپ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ آپ مجھے وہ عطا کر دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: وہ کیا۔ انہوں نے عرض کی: میری بیٹی عرب کی خوبصورت اور حسین و جمیل لڑکی ہے ام حبیبہ، میں اس کی شادی آپ کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ ابوسفیان نے عرض کی: معاویہ کو آپ اپنا معتمد مقرر کر لیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ ابوسفیان نے عرض کی: آپ مجھے یہ حکم دیں میں مشرکین کے ساتھ جنگ کرتا رہوں، جس طرح پہلے میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرتا رہا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔