صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر أبي طلحة الأنصاري رضي الله عنه- باب: ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کا
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْمُنَادِي ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ ، قَالَ : " غَشِيَنَا النُّعَاسُ وَنَحْنُ فِي مَصَافِّنَا يَوْمَ بَدْرٍ ، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : فَكُنْتُ فِيمَنْ غَشِيَهُ النُّعَاسُ يَوْمَئِذٍ ، فَجَعَلَ سَيْفِي يَسْقُطُ مِنْ يَدِي وَآخُذُهُ ، وَيَسْقُطُ وَآخُذُهُ ، وَالطَّائِفَةُ الأُخْرَى الْمُنَافِقُونَ لَيْسَ لَهُمْ هَمٌّ إِلا أَنْفُسُهُمْ ، أَجْبَنُ قَوْمٍ ، وَأَذَلُّهُ لِلْحَقِّ ، يَظُنُّونَ بِاللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ ، أَهْلُ شَكٍّ وَرِيبَةٍ فِي أَمْرِ اللَّهِ " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے غزوہ بدر کے دن ہم لوگ صفوں میں موجود تھے کہ اسی دوران ہم پر اونگھ طاری ہو گئی سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جن پر اس دن اونگھ طاری ہوئی تھی میری تلوار میرے ہاتھ سے گر جاتی تھی میں اسے پکڑ لیتا تھا وہ پھر گر جاتی تھی میں پھر پکڑ لیتا تھا جبکہ دوسرا گروہ منافقین کا تھا انہیں صرف اپنی فکر تھی یہ لوگ سب سے زیادہ بزدل تھے اور سب سے زیادہ ذلیل تھے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ناحق گمان کرتے تھے جو زمانہ جاہلیت کا گمان تھا یہ اللہ کے حکم کے بارے میں شک و شبہ کرنے والے لوگ تھے۔