صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر أنس بن مالك رضي الله عنه- باب: ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَزَّرَتْنِي بِخِمَارِهَا وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا أَنَسٌ أَتَيْتُكَ بِهِ لَيَخْدُمَكَ ، فَادْعُ اللَّهَ لَهُ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ " ، قَالَ أَنَسٌ : فَوَاللَّهِ إِنَّ مَالِي لَكَثِيرٌ ، وَإِنَّ وَلَدِي وَوَلَدَ وَلَدِي يَتَعَاقَبُونَ عَلَى نَحْوِ الْمِائَةِ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں انہوں نے اپنی چادر کے ایک حصے کو مجھے تہبند کے طور پر پہنا دیا اور ایک حصہ میرے جسم پر لپیٹ دیا تھا انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ انس ہے میں اسے لے کر آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوئی ہوں تاکہ یہ آپ کی خدمت کیا کرے آپ اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے دعائے خیر کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ اس کے مال اور اس کی اولاد میں کثرت کر دے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم میرا مال بہت زیادہ ہے اور میری اولاد اور اولاد کی اولاد کی تعداد ایک سو کے قریب ہے۔