صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر خبر يصرح بصحة ما ذكرناه- باب: ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر اس خبر کا جو ہمارے ذکر کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمُ فَوْقَ صَوْتِ صَوْتِ النَّبِيِّ ، وَلا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ ، قَعَدَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ فِي بَيْتِهِ ، وَقَالَ : أَنَا الَّذِي كُنْتُ أَرْفَعُ صَوْتِي ، وَأَجْهَرُ لَهُ بِالْقَوْلِ ، وَأَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ : " بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " ، قَالَ أَنَسٌ : فَكُنَّا نَرَاهُ يَمْشِي بَيْنَ أَظْهُرِنَا ، وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْيَمَامَةِ وَكَانَ ذَلِكَ الانْكِشَافُ ، لَبِسَ ثِيَابَهُ ، وَتَحَنَّطَ وَتَقَدَّمَ ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ” اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچا نہ کرو اور آپ کے سامنے بلند آواز میں بات نہ کرو۔ “ تو سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں بیٹھ گئے انہوں نے کہا: میں وہ شخص ہوں کہ میں اپنی آواز بلند کرتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اونچی آواز میں بات کرتا ہوں تو میں تو جہنمی ہو گیا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غیر موجود پایا (اور ان کے بارے میں دریافت کیا) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی صورت حال کے بارے میں بتایا گیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: (جی نہیں) بلکہ وہ اہل جنت میں سے ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب ہم انہیں اپنے درمیان چلتا پھرتا دیکھتے تھے تو ہمیں اس بات کا پتہ تھا یہ جنتی ہیں لیکن جب جنگ یمامہ کا موقع آیا تو یہ صورت حال کو واضح کرنے والا تھا انہوں نے اپنے کپڑے پہنے، خوشبو لگائی آگے بڑھے جنگ میں حصہ لیا اور شہید ہو گئے۔