صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر عبد الله بن سلام رضي الله عنه- باب: ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلامٍ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ ، فَقَالَ : إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلاثِ خِصَالٍ لا يَعْلَمُهُنَّ إِلا نَبِيٌّ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَلْ " ، قَالَ : مَا أَوَّلُ أَمْرِ السَّاعَةِ ، أَوْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ ؟ وَمَا أَوَّلُ مَا يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ ؟ وَمِمَّ يَنْزِعُ الْوَلَدُ إِلَى أَبِيهِ وَإِلَى أُمِّهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ بِهِنَّ آنِفًا " ، قَالَ : جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : ذَاكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنَ الْمَلائِكَةِ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ ، أَوْ أَمْرِ السَّاعَةِ ، نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْمَشْرِقِ تَحْشُرُ النَّاسَ إِلَى الْمَغْرِبِ ، وَأَمَّا أَوَّلُ مَا يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَزِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ ، وَأَمَّا مَا يَنْزِعُ الْوَلَدُ إِلَى أَبِيهِ وَإِلَى أُمِّهِ ، فَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ نَزَعَ الْوَلَدُ إِلَى أَبِيهِ ، وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ نَزَعَ الْوَلَدُ إِلَى أُمِّهِ " ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتَةٌ ، اسْتَنْزِلْهُمْ ، وَسَلْهُمْ أَيُّ رَجُلٍ أَنَا فِيهِمْ قَبْلَ أَنْ يَعْلَمُوا بِإِسْلامِي ، فَجَاءَ مِنْهُمْ رَهْطٌ ، فَسَأَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ ؟ " قَالُوا : خَيْرُنَا ، وَابْنُ خَيْرِنَا وَسَيِّدُنَا ، وَابْنُ سَيِّدِنَا ، وَأَعْلَمُنَا وَابْنُ أَعْلَمِنَا ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ ؟ " ، قَالُوا : أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ ، وَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، فَقَالُوا : شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا ، قَالَ : يَقُولُ عَبْدُ اللَّهِ : هَذَا الَّذِي كُنْتُ أَتَخَوَّفُ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے موقع پر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: میں آپ سے تین چیزوں کے بارے میں دریافت کروں گا ان چیزوں کے بارے میں کسی نبی کو ہی علم ہو سکتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دریافت کرو۔ انہوں نے عرض کی: قیامت کی پہلی نشانی کیا ہے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) اہل جنت سب سے پہلے کیا چیز کھائیں گے اور وہ کون سی چیز ہے جو بچے کو اس کے باپ یا اس کی ماں کی طرف کھینچ کر لے جاتی ہے (جس کی وجہ سے بچہ ماں یا باپ سے مشابہت رکھتا ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان چیزوں کے بارے میں ابھی جبرائیل نے مجھے بتایا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: جبرائیل نے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: فرشتوں میں سے وہ تو یہودیوں کے نزدیک ناپسندیدہ شخصیت ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کی سب سے پہلی نشانی (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) وہ آگ ہو گی جو مشرق کی طرف سے نکلے گی اور لوگوں کو اکٹھا کر کے مغرب کی طرف لے جائے گی۔ اہل جنت سب سے پہلے جو چیز کھائیں گے وہ مچھلی کے جگر کا اضافی حصہ ہو گا، اور جو چیز بچے کو اس کے باپ یا ماں کی طرف کھینچ کر لے جاتی ہے، تو جب مرد کا مادہ عورت کے مادے پر سبقت لے جائے تو بچہ باپ کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے، جب عورت کا مادہ مرد کے مادے پر سبقت لے جائے تو بچہ ماں کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہودی ایک ایسی قوم ہے جو بہتان تراشی کرتے ہیں آپ انہیں بلوائیں اور ان سے دریافت کیجئے میں ان کے درمیان کیسا شخص ہوں اس سے پہلے کہ انہیں میرے اسلام قبول کرنے کا علم ہو جائے پھر یہودیوں سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: عبداللہ بن سلام کیسا شخص ہے؟ انہوں نے کہا: وہ ہمارے سب سے بہتر شخص اور ہمارے سب سے بہتر شخص کے صاحب زادے ہیں اور وہ ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے صاحب زادے ہیں وہ ہمارے سب سے بڑے عالم اور سب سے بڑے عالم کے صاحب زادے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اگر وہ اسلام قبول کر لے تو پھر تمہاری کیا رائے ہو گی۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ انہیں اس چیز سے بچائے۔ راوی کہتے ہیں، تو سیدنا عبداللہ بن سلام نکل کر ان کے سامنے آئے اور بولے: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو ان یہودیوں نے کہا: آپ ہمارے سب سے برے شخص اور سب سے زیادہ برے شخص کے صاحب زادے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اسی بات کا اندیشہ تھا۔