صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر أبي هريرة الدوسي رضي الله عنه- باب: ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر ابو ہریرہ دوسی رضی اللہ عنہ کا
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِي ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ يَعْنِي ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ مُضَارِبِ بْنِ حَزْنٍ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ مِنَ اللَّيْلِ إِذَا رَجُلٌ يُكَبِّرُ ، فَأَلْحَقْتُهُ بَعِيرِي ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا الْمُكَبِّرُ ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، قُلْتُ : مَا هَذَا التَّكْبِيرُ ؟ قَالَ : شُكْرًا ، قُلْتُ : عَلَى مَهْ ؟ قَالَ " عَلَى أَنِّي كُنْتُ أَجِيرًا لِبُسْرَةَ بِنْتِ غَزْوَانَ بعُقْبَةِ رِجْلِي ، وَطَعَامِ بَطْنِي ، فَكَانَ الْقَوْمُ إِذَا رَكِبُوا ، سُقْتُ لَهُمْ ، وَإِذَا نَزَلُوا خَدَمْتُهُمْ ، فَزَوَّجَنِيهَا اللَّهُ فَهِيَ امْرَأَتِي الْيَوْمَ ، فَأَنَا إِذَا رَكِبَ الْقَوْمُ رَكِبْتُ ، وَإِذَا نَزَلُوا خُدِمْتُ " .مضارب بن حزن بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں رات کے وقت سفر کر رہا تھا اسی دوران کسی شخص نے تکبیر کہنا شروع کی میں اپنے اونٹ پر اس تک پہنچا میں نے کہا: یہ تکبیر کہنے والا شخص کون ہے۔ اس نے جواب دیا: ابوہریرہ۔ میں نے کہا: یہ تکبیر کیوں کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: شکر کے طور پر۔ میں نے کہا: کس بات کا؟ انہوں نے کہا: اس بات پر کہ میں بسرہ بنت غزوان نامی خاتون کا ملازم تھا اس شرط پر کہ وہ میرے پہننے اوڑھنے کا سامان فراہم کرے گی اور مجھے کھانا دے دیا کرے گی جب لوگ سوار ہو کر سفر کرتے تھے تو میں ان کے جانور لے کر پیدل چلتا تھا اور جب وہ پڑاؤ کیا کرتے تھے تو میں ان کی خدمت کیا کرتا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے اس عورت کے ساتھ میری شادی کر دی آج وہ میری بیوی ہے آج جب لوگ سوار ہوتے ہیں، تو میں بھی اس وقت سوار ہوتا ہوں اور جب لوگ پڑاؤ کرتے ہیں تو میری خدمت کی جاتی ہے۔