صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر دعاء المصطفى صلى الله عليه وسلم لجابر بالمغفرة مرارا مع ذكر وصف ثمن ذلك البعير الذي باعه جابر من رسول الله صلى الله عليه وسلم- باب: ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جابر کے لیے بار بار مغفرت کی دعا اور اس اونٹ کی قیمت کی کیفیت کا جو جابر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیچا
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْعَبْدِيُّ بِمَرْوَ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ جَلَبَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي نَضْرَةَ ، يَعْنِي عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَقَالَ : " نَاضِحَكَ تَبِيعُنِيهِ ، إِذَا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِدِينَارٍ ؟ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ " ، قَالَ : قُلْتُ : هُوَ نَاضِحُكُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " تَبِيعُنِيهِ إِذَا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِدِينَارَيْنِ " ، قَالَ : قُلْتُ : نَاضِحُكُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا زَالَ يَقُولُ حَتَّى بَلَغَ عِشْرِينَ دِينَارًا ، كُلُّ ذَلِكَ ، يَقُولُ : " وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ " ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ جِئْتُ بِهِ أَقُودُهُ ، قُلْتُ : دُونَكُمْ نَاضِحَكُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " يَا بِلالُ أَعْطِهِ مِنَ الْغَنِيمَةِ عِشْرِينَ دِينَارًا ، وَارْجِعْ بِنَاضِحِكَ إِلَى أَهْلِكَ " .سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ نے ارشاد فرمایا: کیا تم اپنا اونٹ ایک دینار کے عوض میں فروخت کر دو گے جب ہم مدینہ آئیں گے تو میں (ان شاء اللہ اس کی قیمت ادا کر دوں گا) اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کا ہی اونٹ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مجھے یہ فروخت کرو گے (اس شرط پر) جب ہم مدینہ منورہ آئیں گے اللہ نے چاہا تو میں تمہیں دو دینار (ادا کر دوں گا) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کا اونٹ ہے، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل یہ ارشاد فرماتے رہے، یہاں تک کہ آپ نے 20 دینار قیمت مقرر کر دی ہر مرتبہ یہی فرماتے رہے اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے جب ہم مدینہ منورہ آئے اور میں اس اونٹ کو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کا اونٹ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بلال اسے مال غنیمت میں سے 20 دینار دے دو اور (مجھ سے فرمایا) تم اپنا اونٹ اپنے گھر واپس لے جاؤ۔