صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر دعاء المصطفى صلى الله عليه وسلم لحذيفة بن اليمان بالمغفرة- باب: ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حذیفہ بن الیمان کے لیے مغفرت کی دعا کا
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ النَّهْدِيِّ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَتْ لِي أُمِّي : مَتَى عَهْدُكَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقُلْتُ : مَا لِي بِهِ عَهْدٌ مُذْ كَذَا أَوْ كَذَا ، فَنَالَتْ مِنِّي ، فَقُلْتُ : فَإِنِّي آتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأُصَلِّي مَعَهُ ، وَيَسْتَغْفِرُ لِي وَلَكَ ، فَأَتَيْتُهُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ ، فَصَلَّى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَهُمَا ، ثُمَّ مَضَى وَتَبِعْتُهُ ، فَقَالَ لِي : " مَنْ هَذَا ؟ " ، فَقُلْتُ : حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ ، فَقَالَ : " مَا جَاءَ بِكَ ؟ " ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَتْ لِي أُمِّي ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَلأُمِّكَ " .سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری والدہ نے مجھ سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہاری آخری ملاقات کب ہوئی تھی؟ میں نے کہا: اتنے اتنے عرصے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات نہیں ہوئی، تو میری والدہ نے مجھے برا کہنا شروع کر دیا۔ میں نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا ان کے ساتھ نماز ادا کروں گا وہ میرے لیے اور آپ کے لیے دعائے مغفرت کریں گے پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور مغرب کی نماز ادا کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں نمازوں کے ہمراہ نوافل ادا کیے پھر آپ روانہ ہوئے، تو میں آپ کے پیچھے آیا آپ نے مجھ سے دریافت کیا: کون ہے۔ میں نے عرض کی: حذیفہ بن یمان۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم کیوں آئے ہو؟ میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا: جو میری والدہ نے مجھ سے کہا: تھا , تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری اور تمہاری والدہ کی مغفرت کرے۔