صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر مغفرة الله جل وعلا ذنوب عائشة ما تقدم منها وما تأخر- باب: ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائشہ رضی اللہ عنہا کے گناہوں کی مغفرت کا، جو پہلے ہوئے اور جو بعد میں ہوں گے
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : لَمَّا رَأَيْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طِيبَ نَفْسٍ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ لِي ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَائِشَةَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنَبِهَا وَمَا تَأَخَّرَ ، مَا أَسَرَّتْ وَمَا أَعْلَنَتْ " ، فَضَحِكَتْ عَائِشَةُ حَتَّى سَقَطَ رَأْسُهَا فِي حِجْرِهَا مِنَ الضَّحِكِ ، قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيَسُرُّكِ دُعَائِي ؟ " ، فَقَالَتْ : وَمَا لِي لا يَسُرُّنِي دُعَاؤُكَ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ إِنَّهَا لَدُعَائِي لأُمَّتِي فِي كُلِّ صَلاةٍ " .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ایک دن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج خوشگوار دیکھا تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لیے دعا کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ تو عائشہ کی مغفرت کر دے اس کے گزشتہ اور آئندہ گناہوں کی، جو کچھ اس نے پوشیدہ طور پر کیا اور جو کچھ اعلانیہ طور پر کیا ان سب کی مغفرت کر دے، اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہنس پڑیں حتی کہ ان کا سر ہنسنے کی وجہ سے گود میں آ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا میری دعا تمہیں پسند آئی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: آپ کی دعا مجھے کیوں نہ اچھی لگے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم یہ دعا میں ہر نماز میں اپنی امت کے لئے کرتا ہوں۔