صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
ذكر صهيب بن سنان رضي الله عنه- باب: - ذکر صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ کا
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، وَرَوْحٌ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، أَنَّ صُهَيْبًا حِينَ أَرَادَ الْهِجْرَةَ إِِلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ لَهُ كُفَّارُ قُرَيْشٍ : أَتَيْتَنَا صُعْلُوكًا ، فَكَثُرَ مَالُكَ عِنْدَنَا ، وَبَلَغْتَ مَا بَلَغْتَ ، ثُمَّ تُرِيدُ أَنْ تَخْرُجَ بِنَفْسِكَ وَمَالِكَ ، وَاللَّهِ لا يَكُونُ ذَلِكَ ، فَقَالَ لَهُمْ : " أَرَأَيْتُمْ إِِنْ أَعْطَيْتُكُمْ مَالِي ، أَتُخَلُّونَ سَبِيلِي ؟ فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَقَالَ : أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ لَهُمْ مَالِي ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : رَبِحَ صُهَيْبٌ ، رَبِحَ صُهَيْبٌ " .ابوعثمان نہدی بیان کرتے ہیں: سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ کیا تو کفار قریش نے ان سے کہا: تم ہمارے پاس مفلوک ہونے کے عالم میں آئے تھے ہمارے پاس تمہارا مال زیادہ ہو گیا اور تم اس مرتبے تک پہنچ گئے جو تمہارا ہے اب تم اپنی جان اور مال کو لے کر نکلنا چاہتے ہو اللہ کی قسم ایسا نہیں ہو گا۔ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تمہارا کیا خیال ہے، اگر میں تم لوگوں کو اپنا مال دے دوں، تو کیا تم میرا راستہ چھوڑ دو گے۔ انہوں نے کہا: ہاں، تو سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں میں نے اپنا مال تمہیں دیا۔ اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صہیب نے فائدہ حاصل کر لیا صہیب نے فائدہ حاصل کر لیا۔