صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن عكرمة لم يسمع هذا الخبر من أبي سعيد الخدري- باب: - ذکر اس خبر کا جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ عکرمہ نے یہ خبر ابو سعید خدری سے نہیں سنی
أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ بِوَاسِطَ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ لِي وَلِعَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ : انْطَلِقَا إِِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَاسْمَعَا مِنْ حَدِيثِهِ ، فَأَتَيْنَاهُ ، فَإِِذَا هُوَ فِي حَائِطٍ لَهُ ، فَلَمَّا رَآنَا جَاءَ ، فَأَخَذَ رِدَاءَهُ ، ثُمَّ قَعَدَ ، فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا حَتَّى أَتَى عَلَى ذِكْرِ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ ، قَالَ : كُنَّا نَحْمِلُ لَبِنَةً وَعَمَّارٌ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ " فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ يَنْفُضُ التُّرَابَ عَنْ رَأْسِهِ ، وَيَقُولُ : يَا عَمَّارُ ، أَلا تَحْمِلُ مَا يَحْمِلُ أَصْحَابُكَ ؟ " ، قَالَ : إِِنِّي أُرِيدُ الأَجْرَ مِنَ اللَّهِ ، فَجَعَلَ يَنْفُضُ التُّرَابَ عَنْهُ ، وَيَقُولُ : " وَيْحُ عَمَّارٍ ، تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ ، يَدْعُوهُمْ إِِلَى الْجَنَّةِ ، وَيَدْعُونَهُ إِِلَى النَّارِ " ، فَقَالَ عَمَّارٌ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ .عکرمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے اور اپنے صاحب زادے علی کو یہ کہا: تم دونوں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے حدیث سنو۔ ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ اپنے باغ میں موجود تھے جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو تشریف لے آئے انہوں نے اپنی چادر لی اور پھر بیٹھ گئے۔ انہوں نے ہمارے ساتھ بات چیت کرنی شروع کی، یہاں تک کہ وہ مسجد کی تعمیر کے تذکرے تک آئے، تو بولے: ہم لوگ ایک ایک اینٹ اٹھا کر لاتے تھے اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں اٹھا کر لاتے تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو آپ نے ان کے سر سے مٹی کو جھاڑنا شروع کیا اور فرمایا: اے عمار! تم اتنی ہی کیوں نہیں اٹھاتے جتنی تمہارے ساتھی اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے عرض کی: میں اللہ تعالیٰ سے اجر کا طلب گار ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مٹی کو جھاڑتے ہوئے فرمایا: عمار پر افسوس ہے کہ اسے ایک باغی گروہ قتل کر دے گا یہ ان لوگوں کو جنت کی طرف بلائے گا، اور وہ اسے جہنم کی طرف بلائیں گے، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: میں فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔