صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
ذكر هبة المصطفى صلى الله عليه وسلم البعير لعبد الله بن عمر- باب: - ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبد اللہ بن عمر کو اونٹ دینے کا
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، بِخَبَرٍ غَرِيبٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَكُنْتُ عَلَى بَكْرٍ صَعْبٍ لِعُمَرَ ، فَكَانَ يَغْلِبُنِي ، فَيَتَقَدَّمُ أَمَامَ الْقَوْمِ ، فَيَزْجُرُهُ عُمَرُ وَيَرُدُّهُ ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيَزْجُرُهُ عُمَرُ وَيَرُدُّهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ : بِعْنِيهِ ، قَالَ : هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : بِعْنِيهِ ، فَبَاعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، فَاصْنَعْ بِهِ مَا شِئْتَ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر کر رہے تھے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے جوان اونٹ پر سوار تھا، جسے چلانا مشکل تھا وہ میرے ق ابومیں نہیں آ رہا تھا وہ لوگوں سے آگے بڑھ جاتا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے ڈانٹتے اور پیچھے کرتے وہ پھر آگے بڑھ جاتا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے پھر ڈانٹ کر پیچھے کرتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: یہ مجھے فروخت کر دو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کا ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مجھے فروخت کر دو، تو وہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فروخت کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہما)! یہ تمہارا ہوا تم اس کے ساتھ جو چاہو کرو۔