صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
ذكر مصعب بن عمير أحد بني عبد الدار بن قصي رضي الله عنه- باب: - ذکر مصعب بن عمیر، بنی عبد الدار بن قصی میں سے ایک، رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : أَتَيْنَا خَبَّابًا نَعُودُهُ ، فَقَالَ : " إِِنَّا هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ ، فَوَقَعَ أُجُورُنَا عَلَى اللَّهِ ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْكُلْ مِنْ حَسَنَاتِهِ شَيْئًا ، مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ ، وَتَرَكَ بُرْدَةً ، فَكُنَّا إِِذَا جَعَلْنَاهَا عَلَى رِجْلَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ ، وَإِِذَا جَعَلْنَاهَا عَلَى رَأْسِهِ بَدَتْ رِجْلاهُ ، وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ ثَمَرَتُهُ ، فَهُوَ يَهْدِبُهَا ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عَلَى رَأْسِهِ ، ثُمَّ نَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ شَيْئًا مِنْ إِِذْخِرٍ " .ابووائل بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے فرمایا: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی ہم اللہ کی رضا کا حصول چاہتے تھے ہمارا اجر اللہ کے ذمے لازم ہو گیا ہم میں سے کچھ لوگ (دنیا سے) رخصت ہو گئے انہوں نے اپنی نیکیوں (کے بدلے میں سے) کچھ نہیں کھایا ان میں سے ایک سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ تھے جو غزوہ احد کے دن شہید ہوئے تھے انہوں نے ایک چادر چھوڑی تھی ہم وہ ان کے پاؤں پر ڈالتے تھے تو ان کا سر ظاہر ہو جاتا تھا اور جب ہم وہ چادر ان کے سر پر ڈالتے تھے تو ان کے پاؤں ظاہر ہو جاتے تھے۔ اور اب ہم میں سے وہ لوگ ہیں جن کا پھل تیار ہو گیا ہے وہ اسے چن رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم چادر کو ان کے سر پر رکھ دیں اور ان کے پاؤں پر تھوڑی سی اذخر (گھاس) ڈال دیں۔