صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
ذكر البيان بأن جبريل صلى الله عليه أقرأ خديجة من ربها السلام- باب: - ذکر بیان کہ جبرائیل صلی اللہ علیہ نے خدیجہ کو ان کے رب سے سلام پڑھ کر سنایا
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " أَتَى جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذِهِ خَدِيجَةُ أَتَتْكَ بِإِِنَاءٍ فِيهِ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ ، فَإِِذَا هِيَ أَتَتْكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا مِنْ رَبِّهَا السَّلامَ ، وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ ، لا سَخَبَ فِيهِ وَلا نَصَبَ " ، ابْنُ فُضَيْلٍ هُوَ : مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، قَالَهُ الشَّيْخُ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! خدیجہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن لے کر آ رہی ہیں، جس میں کھانا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) مشروب موجود ہے، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ جائیں تو ان کے پروردگار کی طرف سے انہیں سلام کہہ دیجئے گا اور انہیں جنت میں ایک ایسے گھر کی بشارت دیدیجئے گا، جو موتی سے بنا ہوا ہو گا اس میں کوئی شور شرابہ اور تھکاوٹ نہیں ہو گی۔
ابن فضیل نامی راوی، محمد بن فضیل بن غزوان ہے یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔