صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
ذكر البيان بأن هذا الخطاب كان من المصطفى لأسقفي نجران- باب: - ذکر بیان کہ یہ خطاب مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا نجران کے اساقفہ کے لیے تھا
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْقُفَا نَجْرَانَ الْعَاقِبُ وَالسَّيِّدُ ، فَقَالُوا : ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لأَبْعَثَنَّ مَعَكُمْ أَمِينًا ، فَاسْتَشْرَفَ لَهَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ " ، فَأَرْسَلَهُ مَعَهُمْ .سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نجران کے دو پادری (یا راہب) عاقب اور سعید آئے انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ کسی ایسے امین شخص کو بھیجیں جو واقعی امین ہو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تمہارے ساتھ امین شخص کو بھیجوں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اس کے لئے متوجہ ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوعبیدہ بن جراح تم اٹھ جاؤ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان لوگوں کے ساتھ بھیج دیا۔