صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
ذكر عبد الرحمن بن عوف الزهري رضوان الله عليه وقد فعل- باب: - ذکر عبد الرحمن بن عوف زہری رضی اللہ عنہ اور اس پر اللہ کی رحمت، اور یہ ہوا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، وَالْجَنَدِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ صَخْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : " إِِنَّ أَمْرَكُنَّ لَمِمَّا يَهُمُّنِي بَعْدِي ، وَلَنْ يَصْبِرَ عَلَيْكُنَّ بَعْدِي إِِلا الصَّابِرُ " ، قَالَ : ثُمَّ تَقُولُ : " فَسَقَى اللَّهُ أَبَاكَ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ تُرِيدُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، وَكَانَ قَدْ وَصَلَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ بِيعَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا " .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم (خواتین) کا معاملہ ان چیزوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں مجھے اپنے بعد اندیشہ ہے اور میرے بعد تم پر وہی شخص صبر سے کام لے گا جو صبر کرنے والا ہو گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے والد کو (جنت کی نہر) سلسبیل سے سیراب کرے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد عبدالرحمن بن عوف تھے (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا:) وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کا اتنا خیال رکھتے تھے کہ انہوں نے جو مال دیا اس کی قیمت چالیس ہزار تھی۔